اگر بڑے بہن بھائی مونگ پھلی کھاتے ہوں تو چھوٹے بہن بھائی میں الرجی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، مطالعہ
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-03-09/1563490_7584461_%D9%86%D8%AF%D9%86%DA%A9_updates.jpg— فائل فوٹوایک نئے مطالعے کے مطابق چھوٹے بہن بھائی میں مونگ پھلی سے ہونے والی الرجی کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے اگر ان کے بڑے بہن بھائی مونگ پھلی زیادہ کھاتے ہوں، خاص طور پر اُس صورت میں جب چھوٹے بچوں کو ابتدائی پہلے سال میں ان کی خوراک میں مونگ پھلی شامل نہ کی گئی ہو۔
یہ مطالعہ فلاڈیلفیا میں ہونے والے امریکن اکیڈمی آف الرجی، استامہ اور امیونولوجی کے اجلاس میں پیش کیا گیا، جہاں مرکزی محقق نے بتایا کہ اگر گھر کے افراد مونگ پھلی کھاتے ہوں اور چھوٹے بچے کی خوراک میں پہلے سال میں مونگ پھلی نہ دی گئی تو اس میں الرجی پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
مونگ پھلی کی الرجی کی عام علامات میں جلد پر سرخ دانے، جلد میں خارش، چہرے پر سوجن، گلے میں درد، سانس میں گھرگھراہٹ، الٹی، اسہال شامل ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-03-07/1562915_090009_updates.jpg
کیا غصہ نوجوانوں کو تیزی سے بوڑھا کر رہا ہے؟ تحقیق میں حیران کن انکشاف
اگر آپ معمولی باتوں پر فوراً غصہ ہو جاتے ہیں تو یہ تحقیق آپ کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
اس مطالعے میں سائنسدانوں نے ان بچوں کے چھوٹے بہن بھائیوں کا جائزہ لیا جو پہلے ایک کلینیکل ٹرائل Learning Early About Peanut Allergy (LEAP) میں شامل رہے تھے۔
محققین نے یہ دیکھا کہ گھر میں مونگ پھلی کے استعمال کا بچوں پر کیا اثر پڑتا ہے اور وہ اپنے بڑے بہن بھائیوں کے رویّے سے کس حد تک متاثر ہوتے ہیں۔
مطالعے کے نتائج کے مطابق اگر خاندان میں مونگ پھلی زیادہ کھائی جاتی ہو تو ایسے گھرانوں میں نومولود بچوں میں مونگ پھلی کی الرجی ہونے کا خطرہ 16 گنا زیادہ پایا گیا جبکہ مونگ پھلی کے لیے حساسیت پیدا ہونے کا امکان 13 گنا زیادہ تھا۔
محقیق کے مطابق یہ خطرہ ان بچوں میں مزید زیادہ تھا جو پہلے سے ایگزیما کا شکار تھے، خصوصاً اگر انہیں یہ مسئلہ طویل عرصے سے ہو۔
ماہرین کے مطابق اگر زندگی کے ابتدائی سالوں میں ہی مناسب طریقے سے بچوں کی خوراک میں مونگ پھلی شامل کر دی جائے تو اس خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج فی الحال ابتدائی نوعیت کے ہیں اور انہیں حتمی طور پر سمجھنے سے پہلے کسی سائنسی جریدے میں ہم جائزے کے بعد شائع ہونا باقی ہے۔
Pages:
[1]