امریکا کے ساتھ مذاکرات اب ایجنڈے میں شامل نہیں: ایرانی وزیرِ خارجہ
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-03-10/1563720_8466957_04_updates.jpgایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی—فائل فوٹوایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اب ایجنڈے میں شامل نہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے تک ایران میزائل حملے جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے خارجہ پالیسی کے مشیر کمال خرازی نے بھی کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ سفارت کاری کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور ایرانی فوج طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-03-10/1563719_112217_updates.jpg
ایران نے تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کی تو 20 گنا سخت جواب دینگے: ٹرمپ
اگر ایران نے اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کی تو امریکا اس کے خلاف انتہائی سخت فوجی کارروائی کرے گا۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
علاوہ ازیں ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا تعین ہم کریں گے، امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لٹر تیل بھی برآمد ہونے نہیں دیں گے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران کے بارے میں ٹرمپ کی باتیں بےمعنی ہیں، خطے میں سلامتی یا تو سب کے لیے ہو گی یا کسی کے لیے نہیں ہوگی۔ جو ملک اسرائیلی وامریکی سفیروں کو نکالے گا وہ آبنائے ہرمز کو استعمال کر سکتا ہے، ان ممالک کو آج سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مکمل آزادی ہوگی۔
Pages:
[1]