امریکا ایران جنگ کے پہلے ہفتے کتنے ارب ڈالرز خرچ کر چکا؟ پینٹاگون حکام نے بتا دیا
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-03-10/1563730_9731199_KDKS_updates.jpg— فائل فوٹوز
پینٹاگون کے مطابق امریکا ایران کے خلاف آپریشن کے پہلے ہفتے میں تقریباً 6 ارب ڈالرز خرچ کر چکا ہے، جبکہ یومیہ 891 ملین ڈالرز خرچ کر رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے اختتام تک مجموعی رقم کئی ارب ڈالرز تک بڑھ سکتی ہے۔
کانگریس میں ہونے والی بریفنگ کے دوران دفاعی حکام نے بتایا کہ اس رقم میں سے تقریباً 4 ارب ڈالرز صرف اسلحے اور جدید میزائل دفاعی نظام پر خرچ کیے گئے، جن میں ایرانی میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے والے جدید انٹرسیپٹر شامل ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-03-03/1561552_122739_updates.jpg
ایران جنگ امریکا کو کتنی مہنگی پڑ سکتی ہے؟ ہتھیاروں کی کمی بڑا چیلنج بن گیا
ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس جنگ کی اصل قیمت صرف مالی نہیں بلکہ امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر دباؤ بھی بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو جاری رکھنے اور استعمال ہونے والے اسلحے کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے مزید فنڈز درکار ہوں گے، اس سلسلے میں آئندہ ہفتوں میں اضافی بجٹ کی درخواست متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اب تک ایران کے تقریباً 4 ہزار فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں میزائل لانچر، بحری جہاز اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔
ان حملوں کے نتیجے میں ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کو نمایاں طور پر نقصان پہنچا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ بریڈ کوپر کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد ایران کی جانب سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کی تعداد میں 90 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ ڈرون حملوں میں 83 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی اپنے میزائل پروگرام کا تقریباً 50 فیصد حصہ موجود ہے۔
Pages:
[1]