پُراسرار ڈرون امریکی جوہری بمبار بیس تک جا پہنچا، سیکیورٹی الرٹ جاری
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-03-11/1564008_2049020_4_updates.jpg---فائل فوٹو
امریکا میں ایک پراسرار ڈرون کے اہم فوجی اڈے کے قریب پہنچنے پر سیکیورٹی حکام نے ہائی الرٹ جاری کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق ایک نامعلوم ڈرون کو بارکسڈیل ایئر فورس Barksdale Air Force Base کے قریب پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد فوجی حکام نے فوری طور پر خطرے کی گھنٹی بجا دی۔
اس اڈے پر جدید ترین B-52 Stratofortress بمبار طیارے موجود ہیں جو دنیا بھر میں جوہری اور روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
حکام کے مطابق واقعے کے بعد سیکیورٹی الرٹ چارلی فورس پروٹیکشن کنڈیشن تک بڑھا دیا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی ممکنہ خطرے کا خدشہ موجود ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ چکی ہے اور امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں صورتِ حال مزید حساس ہو گئی ہے۔
ایران ماضی میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے شاہد خودکش ڈرونز اور میزائل استعمال کرتا رہا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-03-06/1562688_110811_updates.jpg
سستے ایرانی ڈرونز نے مہنگے امریکی فضائی دفاعی نظام کی کمزوری بے نقاب کر دی
ایران کا شاہد ڈرون تکون نما لوئٹرنگ میونیشن ہے جس کی لمبائی تقریباً 11 فٹ ہوتی ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون کی شناخت اور اس کے آپریٹر کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں جبکہ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ ڈرون کو قبضے میں لیا گیا یا نہیں۔
ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی فوجی تنصیب کے اوپر بغیر اجازت ڈرون اڑانا ریاستی اور وفاقی قانون کے تحت جرم ہے اور اس پر بھاری جرمانے اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ B-52 Stratofortress امریکی فضائیہ کے طاقتور ترین بمبار طیاروں میں شمار ہوتے ہیں جو تقریباً 8800 میل تک بغیر ایندھن بھرے پرواز کر سکتے ہیں اور تقریباً 70 ہزار پاؤنڈ وزنی جوہری یا روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
Pages:
[1]