ایران نے سیکیورٹی کیمروں کو ہیک کر لیا، اسرائیل کا دعویٰ
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-03-11/1564037_3901155_ix_updates.jpg— فائل فوٹو
اسرائیل کی سائبر سیکیورٹی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے آغاز کے بعد ایران سے منسلک ہیکرز نے درجنوں سیکیورٹی کیمروں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، جنہیں مبینہ طور پر جاسوسی کے لیے استعمال کیا گیا۔
اسرائیلی سائبر ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ سینکڑوں کیمرا مالکان کو خبردار اور عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے پاس ورڈ تبدیل کریں اور سافٹ ویئر اپڈیٹ کریں تاکہ قومی یا ذاتی سطح پر کسی بھی سیکیورٹی خطرے سے بچا جا سکے۔
اسرائیل کے نیشنل سائبر ڈائریکٹوریٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایرانی ہیکرز کی جانب سے سیکیورٹی کیمروں میں درجنوں دراندازیوں کا پتہ چلا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان سائبر حملے حالیہ برسوں میں معمول کا حصہ رہے ہیں، دسمبر 2025ء میں اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم نے بھی کہا تھا کہ میرے ٹیلی گرام اکاؤنٹ کو نشانہ بناتے ہوئے سائبر حملہ کیا گیا۔
اس کے بعد ان کے مبینہ نجی پیغامات، ویڈیوز اور تصاویر ایک ہیکر ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شائع کی گئیں، جس کا نام فلسطینی کاز کی علامت ہندالا کے نام پر رکھا گیا تھا۔
اسرائیلی سائبر سیکیورٹی کمپنی کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع ہونے کے بعد ہیکرز نے بڑے پیمانے پر نگرانی کے کیمروں تک رسائی حاصل کی ہے، جو عام طور پر استعمال تو ہوتے ہیں مگر اکثر مناسب سیکیورٹی کے بغیر ہوتے ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-03-07/1562974_015957_updates.jpg
امریکا کو ایف بی آئی نیٹ ورک پر چینی ہیکرز کے سائبر حملے کا شبہ
امریکا نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ممکنہ طور پر ایف بی آئی نیٹ ورک پر ہونے والے سائبر حملے میں چینی ہیکرز ملوث ہوسکتے ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
کمپنی کے سائبر انٹیلیجنس سربراہ نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ان کیمروں کی تصاویر ممکنہ طور پر حملوں سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگانے یا مخصوص افراد کی سرگرمیوں اور مقامات کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔
ان کے مطابق یہ ہیکرز ایران کی فوج سے منسلک ہیں اور انہیں ریاستی سطح پر خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب اور ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس و سیکیورٹی کی جانب سے حمایت حاصل ہے۔
Pages:
[1]