slotcosino Publish time 2025-11-18 01:51:31

حسینہ واجد کی سزائے موت کے فیصلے پر ڈھاکا یونیورسٹی میں مٹھائیاں تقسیم، جشن منایا گیا

https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-17/1529307_268228_dHAKA_updates.jpgفوٹو: بنگلادیشی میڈیا

بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنا دی گئی، فیصلے کے بعد ڈھاکا یونیورسٹی میں طلبہ نے مٹھائی تقسیم کرکے جشن منایا۔

شیخ حسینہ واجد کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد ڈھاکا یونیورسٹی کے طلبہ اور ڈھاکا یونیورسٹی سینٹرل اسٹوڈنٹس یونین کے رہنماؤں نے مٹھائیاں تقسیم کیں۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-17/1529290_064913_updates.jpg
شیخ حسینہ کی سزائے موت کا فیصلہ، آج کے دن خاص بات کیا؟

58 برس پہلے 17 نومبر 1967 کو ان کی شادی ممتاز طبیعیات دان ایم اے واجد میاں سے ہوئی تھی۔ اور اب اتفاقیہ طور پر 17 نومبر 2025 کو اسی دن انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png

اسٹوڈنٹ یونین نے آج سہ پہر شیخ حسینہ کے فیصلے کو بڑی اسکرین پر براہِ راست نشر کرنے کا انتظام کیا، جسے دیکھنے کیلئےبڑی تعداد میں طلبہ اساتذہ اور دیگر لوگ جمع ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ جسٹس غلام مرتضیٰ موجمدار کی سربراہی میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔ ٹریبونل کے دیگر 2 ارکان میں جسٹس شفیع العالم محمود اور جج محیط الحق انعام چوہدری شامل ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش کی مقامی جنگی جرائم کی عدالت انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے شیخ حسینہ واجد کے خلاف مقدمات کا 453 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-17/1529287_060254_updates.jpg
شیخ حسینہ کا سیاسی غلبے سے سزائے موت تک کا سفر

1975 کے فوجی بغاوت میں اپنے والد اور خاندان کے بیشتر افراد کی ہلاکت کے بعد وہ جلاوطنی میں بھارت منتقل ہو گئیں۔ 1981 میں واپسی کے بعد انہیں عوامی لیگ کی قیادت سونپی گئی۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png

عدالت نے بنگلادیش کے سابق وزیر داخلہ اسد الزماں کمال کو بھی سزائے موت کا حکم دے دیا جبکہ سابق انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری عبداللّٰہ المامون کو 5 سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔

بنگلادیشی عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ لیک فون کال کے مطابق حسینہ واجد نے مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے قتل کے احکامات دیے، ملزمہ شیخ حسینہ واجد نے طلبہ کے مطالبات سننے کے بجائے فسادات کو ہوا دی، انہوں نے طلبہ کی تحریک کو طاقت سے دبانے کیلیے توہین آمیز اقدامات کیے۔
Pages: [1]
View full version: حسینہ واجد کی سزائے موت کے فیصلے پر ڈھاکا یونیورسٹی میں مٹھائیاں تقسیم، جشن منایا گیا