پریمیئر نیو ساؤتھ ویلز کرس منز احمد الاحمد کی عیادت کرنے اسپتال پہنچ گئے
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-15/1537756_3369854_ahmd_updates.jpg—فوٹو بشکریہ ایکس
آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منز احمد الاحمد کی عیادت کے لیے اسپتال پہنچ گئے۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ احمد ایک حقیقی زندگی کا ہیرو ہے، جس نے غیر معمولی بہادری سے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر بے شمار جانیں بچائیں۔
برطانوی براڈ کاسٹر پیئرس مورگن نے کہا ہے کہ احمد کے خاندان نے تصدیق کی ہے کہ وہ مسلمان ہے، جو شام سے ہجرت کر کے آسٹریلیا آیا اور اب آسٹریلوی شہری بن گیا ہے۔
پیئرس مورگن نے احمد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اس کی صحت یابی کی دعا کی اور نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
خیال رہے کہ شامی ہیرو احمد الاحمد کے لیے امریکی ارب پتی کی جانب سے 1 لاکھ ڈالرز کا انعام کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ آن لائن فنڈز اکٹھا کرنے کی مہم بھی شروع ہو گئی ہے جس کے تحت 10 لاکھ ڈالرز جمع کر لیے گئے ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-15/1537744_052843_updates.jpg
سڈنی: حملہ آور کو دبوچ کر قابو کرنیوالے شامی ہیرو احمد الاحمد کی دنیا بھر میں پذیرائی
سڈنی میں حملہ آور کو دبوچ کر بندوق چھیننے والے شامی ہیرو احمد الاحمد کو آسٹریلیا سمیت دنیا بھر میں پزیرائی ملنے لگی ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
ادھر بانڈی بیچ پر دہشت گرد حملے کے دوران ایک حملہ آور کو قابو کر کے اسلحہ چھیننے والے احمد الاحمد کی پہلی سرجری کامیابی سے مکمل ہو گئی ہے۔
آسٹریلوی میڈیا اور حکام کی جانب سے ہیرو قرار دیے جانے والے 43 سالہ احمد الاحمد اس وقت اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
احمد الاحمد کے کزن نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ پہلی سرجری کامیاب رہی ہے، تاہم ڈاکٹروں کے فیصلے کے مطابق مزید آپریشنز کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-15/1537748_060012_updates.jpg
نیتن یاہو کو سڈنی حملہ آور کو قابو کرنیوالے احمد الاحمد کی شناخت سے متعلق وضاحت کرنا پڑ گئی
نیتن یاہو نے عبرانی زبان میں ایک تقریر کے دوران جو انتہائی قوم پرست چینل 14 پر نشر ہوئی، احمد الاحمد کے اقدام کو “یہودی بہادری” قرار دیا۔https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
حکام کے مطابق احمد الاحمد کو بازو اور ہاتھ میں گولی لگنے سے زخم آئے تھے، جس کے بعد انہیں علاج کے لیے سینٹ جارج اسپتال منتقل کیا گیا۔
واقعے کے دوران ان کی بہادری کو بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے اور انہیں متعدد جانیں بچانے کا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔
Pages:
[1]