مشی خان نے عماد وسیم کے مبینہ اسکینڈل پر سوالات اٹھا دیے
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-31/1542539_6425064_2_updates.jpgفائل فوٹوزمعروف پاکستانی اداکارہ اور ٹی وی میزبان مشی خان نے حالیہ دنوں میں کرکٹر عماد وسیم اور دیگر شادی شدہ مردوں کے مبینہ بےوفائی کے رویے پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی۔
مشی خان اپنے دوٹوک مؤقف اور سماجی مسائل پر کھل کر بات کرنے کے لیے جانی جاتی ہیں، اور وہ اس وقت ایک مارننگ شو کی میزبانی کر رہی ہیں۔
حال ہی میں مشی خان نے ایک ویڈیو پیغام میں اُن مردوں کو آڑے ہاتھوں لیا جو شادی کے باوجود دوسری عورتوں سے تعلقات قائم کرتے ہیں اور بعدازاں اپنی بیوی اور بچوں کو بوجھ قرار دینے لگتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ میرا سوال تمام مردوں سے ہے، چاہے وہ کرکٹر ہوں، عام آدمی ہوں یا شوبز سے تعلق رکھتے ہوں۔ جب آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے اپنی بیوی کے ساتھ اختلافات ہیں، نبھایا نہیں جارہا ہو تو پھر باہر کی عورتوں کے پاس جا کر پارٹیز کیوں کرتے ہیں؟
مشی خان نے مزید کہا کہ بعد میں یہی مرد یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ وہ کسی دوسری عورت کے عشق میں مبتلا ہو چکے ہیں اور خود کو پھنسا ہوا محسوس کرتے ہیں، جس کے بعد انہیں اپنی ہی فیملی بوجھ لگنے لگتی ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-30/1542300_020210_updates.jpg
عماد وسیم کی مبینہ گرل فرینڈ نائلہ راجہ کی ثانیہ اشفاق پر تنقید
سوشل میڈیا صارفین نے ایک بار پھر نائلہ راجہ کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’اگر آپ نے خاندان بنایا ہے تو اس کی تمام ذمہ داریاں بھی نبھانی ہوں گی، چاہے وہ سابقہ بیوی ہو یا بچے، بعد میں یہ کہنا کہ ساری جائیداد والدین کے نام کر دی، یا یہ یا وہ بہانہ، یہ سب غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔‘
مشی خان کی اس ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین نے بھرپور ردعمل دیا، کئی صارفین نے ان کے مؤقف کو سراہا اور ایسے مردوں پر شدید تنقید کی جو شادی کے بعد بے وفائی کرتے ہیں، بعض افراد نے مشی خان کی پوسٹ میں براہِ راست عماد وسیم کو بھی ٹیگ کیا، جبکہ کئی صارفین نے ایسے مردوں کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔
سوشل میڈیا پر تبصرے کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مشی خان نے ایک حساس مگر اہم موضوع پر کھل کر بات کی ہے، جو ہمارے معاشرے میں اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
Pages:
[1]