کراچی: گل پلازا میں ہنگامی اخراج کا راستہ تھا نہ ہی آگ سے نمٹنے کے انتظامات تھے، رپورٹ
کراچی کے مصروف ترین ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازا کی عمارت کا بڑا حصہ گر گیا، عمارت میں ہنگامی اخراج کی جگہ نہیں تھی اور نہ ہی آگ سے نمٹنے کے لیے انتظامات تھے۔گل پلازا میں لگنےوالی آگ سے متعلق متعلقہ حکام کی رپورٹ کے نکات سامنے آگئے، جس کے مطابق 1995ء میں گل پلازا کی عمارت تعمیر ہوئی تھی، ابتدائی طور پر عمارت بیسمنٹ، گراؤنڈ اور پہلی منزل تک تھی۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-18/1547985_044701_updates.jpg
کراچی: گل پلازہ کی عمارت کا بڑا حصہ گرگیا، 6 افراد جاں بحق، تاحال آگ نہ بجھائی جا سکی
سی ای او ریسکیو عابد جلالانی کا کہنا ہے کہ متاثر عمارت انتہائی مخدوش حالت میں ہے، عمارت کے عقبی حصے پہلے گر چکے تھے، اگلا حصہ ابھی گرا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
رپورٹ کے نکات میں کہا گیا کہ عمارت پر 2003ء تک مختلف اوقات میں تین فلورز تعمیر کیے گئے، عمارت میں 500 دکانوں کی گنجائش تھی، بڑی دکانوں کو چھوٹا کرکے مزید دکانیں نکالی گئیں۔
عمارت میں دکانوں کی تعداد 500 سے بڑھ کر 1200 ہوگئی تھی، عمارت میں ہنگامی اخراج کی جگہ نہیں تھی، عمارت میں آگ سے نمٹنے کے لیے انتظامات نہیں تھے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-18/1547997_071021_updates.jpg
گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 لوگ جاں بحق ہوئے، 58 افراد ابھی تک لا پتہ ہیں، وزیر اعلیٰ سندھ
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جن کے پیارے دنیا سے چلے گئے ہیں، اُن کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
دوسری جانب گل پلازا میں لگی آگ کو 22 گھنٹے گزر گئے، آگ مکمل طور پر نہ بجھائی جا سکی،عمارت میں پھنسے لوگوں سے رابطہ ختمہوگیا۔
شہر بھر کے فائر فائٹرز امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، شہید فائر فائٹر فرقان کی نماز جنازہ ناظم آباد فائر اسٹیشن میں ادا کر دی گئی۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ سانحے میں 6 افراد کی جان گئی، 22 زخمی ہوئے اور 58 افراد لاپتہ ہیں۔
Pages:
[1]