برفیلے پہاڑ پر یورپ کی بلند ترین عمارت
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-03/1553063_4293380_GAZA-NEW-2_updates.jpgتصویر سوشل میڈیا۔اٹلی کے برفانی کوہ الپس میں واقع یورپ کی بلند ترین بلڈنگ ایک دور دراز کیبن کی شکل میں موجود ہے۔ یہ کیبن یا ہٹ سطح سمندر سے تقریباً 15,000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ مارگریٹا ہٹ نامی جھونپڑی نما یہ کیبن دنیا کے سب سے زیادہ دور افتادہ پہاڑی کیبنز میں سے ایک ہے۔
پونتا گنیفیٹی پہاڑی چوٹی اطالوی الپس میں ہے اور یہ سوئٹزر لینڈ کی سرحد کے قریب ہے، مارگریٹا ہٹ کا نام اٹلی کی ملکہ مارگریٹا آف ساوائے کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہوں نے 1893ء میں اس کا افتتاح کیا تھا۔https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-27/1550808_015413_updates.jpg
امریکی کوہ پیما رسیوں کے بغیر تائیوان کی بلند ترین عمارت تائی پے 101 پر چڑھ گیا
امریکی کوہ پیما ایلکس ہونولڈ نے رسیوں کے بغیر تائیوان کی فلک بوس عمارت تائی پے101 پر چڑھ گیا۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
ابتدا میں یہ ہائی ایلیویشن میڈیسن کے لیے ایک اہم تحقیقی مرکز تھا، لیکن بعد ازاں اسے پہاڑوں پر چڑھنے والے کوہ پیماؤں کے لیے ایک پہاڑی پناہ گاہ کے طور پر بھی وسعت دے دی گئی۔
مارگریٹا ہٹ مونٹے روزا ماسف میں واقع کئی جھونپڑیوں میں سے ایک ہے، لیکن سطح سمندر سے 4554 میٹر (14941 فٹ) کی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ نہ صرف ان سب میں سب سے بلند ہے بلکہ یورپ کی سب سے اونچی عمارت بھی ہے۔ یہ گرمیوں کے موسم میں جون کے آغاز سے ستمبر کے اوائل تک کھلی رہتی ہے اور اس میں تقریباً 70 افراد کے قیام کی سہولت موجود ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-03/1543487_020802_updates.jpg
دنیا کی سب سے لمبی رہائشی عمارت کس ملک میں ہے؟
دنیا میں جہاں مختلف ممالک میں موجود بلند ترین عمارتیں تو بہت مقبول ہیں وہیں ایک طویل ترین رہائشی عمارت بھی قابلِ ذکر ہے۔https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
2017 سے قریبی شہر الاگنا ولاسیا کے میئرنے یہاں پر شادیوں کی تقریبات اجازت دے رکھی ہے لیکن اس منفرد تجربے میں شریک ہونے کے لیےمارگریٹا ہٹ تک بلند پہاڑ پر چڑھنا پڑتا ہے۔
یہ عمارت ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی قابل رسائی نہیں اور یہاں پہنچنے کا واحد راستہ پیدل سفر ہے، جو عموماً دو دن لیتا ہے اور اس کے لیے اچھی جسمانی فٹنس اور الپائن تکنیکسں کا مناسب علم ضروری ہے۔
Pages:
[1]