’ورک فرام ہوم‘ سے انکار پر بہترین ملازم مستعفی، کمپنی مالک کی پچھتاوے سے پھرپور پوسٹ وائرل
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-24/1559510_388351_njx_updates.jpg— فائل فوٹو
دبئی میں قائم ایک کمپنی کے شریک بانی نے انتظامی غلطی تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ورک فرام ہوم کی ایک سادہ درخواست مسترد کرنے کے باعث ان کا بہترین ملازم ادارہ چھوڑ گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دبئی کی کمپنی کے مالک کا مذکورہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم لنکڈ ان پر وائرل ہو گیا۔
کمپنی کے شریک بانی ملک اے نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ میں نے ایک اعلیٰ کارکردگی دکھانے والی ملازمہ کو خاص طور پر جمعے کے روز گھر سے کام کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، حالانکہ اس کا کام زیادہ تر خودمختار نوعیت کا تھا۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-24/1559510_1904443_nx5_updates.jpg
انہوں نے لکھا کہ میں نے سوچا اگر میں ہاں کہہ دوں تو باقی سب بھی یہی مطالبہ کریں گے، دفتر جمعے کو خالی ہو جائے گا اور معاملہ قابو سے باہر ہو جائے گا۔
کمپنی کے شریک بانی نے بتایا کہ ملازمہ نے اس فیصلے پر بحث نہیں کی اور صرف اوکے کہہ دیا، تاہم 2 ماہ بعد مذکورہ ملازمہ نے استعفیٰ دے دیا۔https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-16/1528986_032917_updates.jpg
’ورک فرام ہوم‘ کو چھٹی کے مترادف قرار دینے پر ملازم نے استعفیٰ دیدیا
کمپنی کے ماحول سے تنگ آکر 23 سالہ ملازم نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایگزٹ انٹرویو میں مذکورہ ملازمہ نے بتایا کہ اگرچہ جمعے کا معاملہ بنیادی وجہ نہیں تھا، لیکن اسی لمحے اسے احساس ہوا کہ اس پر اعتماد نہیں کیا جا رہا، معلوم ہوا کہ وہ روزانہ 2، 2 گھنٹے کا سفر کرتی تھی اور جمعے کا ٹریفک سب سے زیادہ مشکل ہوتا تھا۔
اس واقعے سے سبق حاصل کرتے ہوئے ملک اے نے لکھا کہ بعض اوقات جس چیز کو ہم انتشار سمجھتے ہیں، وہ دراصل وفاداری پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ میں نے ایک ایسے مسئلے کے خوف سے انکار کیا جو ابھی وجود میں بھی نہیں آیا تھا۔
انہوں نے لکھا کہ اب میں ہر معقول درخواست منظور کر لیتا ہوں اور اندازہ لگائیں کہ دفتر تباہ نہیں ہوا، کسی نے ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا، لوگ بس بہتر کام کرتے ہیں۔
پوسٹ وائرل ہونے کے بعد صارفین نے تبصرہ کیا کہ اکثر ادارے ملازمین کی قدر اُس وقت کرتے ہیں جب وہ جا چکے ہوتے ہیں۔
Pages:
[1]