ایپسٹین اسکینڈل: سابق سفیر پیٹر مینڈیلسن گرفتار، برطانوی سیاسی حلقوں میں ہلچل
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-24/1559518_7641914_9_updates.jpgفوٹو بشکریہ برطانوی میڈیابرطانیہ کے سابق سفیر پیٹر مینڈیلسن کو بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کے انکشاف کے بعد لندن پولیس نے عہدے کے غلط استعمال کے شبے میں گرفتار کرلیا۔
برطانوی لیبر پارٹی کے رہنما پیٹر مینڈیلسن بطور برطانوی سفیر امریکا میں تعینات تھے۔ گزشتہ سال جب ان کی جیفری ایپسٹین کے ساتھ دوستی کی نوعیت اور گہرائی سے متعلق تفصیلات سامنے آنا شروع ہوئیں تو اُنہیں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔
اُنہوں نے بطور سفیر برطرفی کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں اپنی نشست بھی چھوڑ دی اور لیبر پارٹی سے بھی استعفیٰ دے دیا۔
لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے ایک بیان میں بتایا کہ سابق حکومتی وزیر سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں افسران نے ایک 72 سالہ شخص کو عہدے کے غلط استعمال کے شبے میں گرفتار کیا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-20/1558142_013935_updates.jpg
سابق برطانوی شہزادہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونزر رہا
برطانوی میڈیا کے مطابق اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونزر کو کار کی پچھلی نشست پر تھانے سے نکلتے دیکھا گیا۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
برطانوی پولیس نے پیٹر مینڈیلسن کو گزشتہ روز شام ساڑھے 4 بجے حراست میں لیا اور صبح 2 بجے تصدیق کی کہ 72 سالہ نامعلوم شخص کو مزید تفتیش کے لیے ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ کے سابق سفیر کی یہ گرفتاری شاہ چارلس کے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونزر کی ایپسٹین اسکینڈل میں گرفتاری اور رہائی کے چند دن بعد عمل میں آئی۔
پیٹر مینڈیلسن پر الزامات ہیں کہ جب وہ وزیر اعظم گورڈن براؤن کی حکومت میں وزیر تھے تو انہوں نے جیفری ایپسٹین کو حساس دستاویزات بھیجی تھیں۔
Pages:
[1]