یوکرین میں صحت کا بحران سنگین: 2025ء میں طبی مراکز پر حملوں میں 20 فیصد اضافہ ہوا
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-25/1559801_729440_News5_updates.jpgفوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
یوکرین میں جنگ کے باعث صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2025ء میں صحت کے مراکز پر حملوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ فروری 2022ء سے اب تک یوکرین بھر میں اسپتالوں، کلینکس، ایمبولینسوں، طبی عملے اور گوداموں پر تقریباً 2,900 حملوں کی تصدیق ہو چکی ہے جو حالیہ برسوں میں کسی بھی انسانی بحران میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-25/1559684_025705_updates.jpg
روس یوکرین جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں، عاصم افتخار
انہوں نے کہا کہ خطے میں دیرپا امن بامعنی مذاکرات سے ہی آسکتا ہے، امید ہے فریقین سفارتکاری سے مسئلے کا پرامن حل نکالیں گے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
رپورٹ کے مطابق لاکھوں شہری ایمرجنسی سرجری، زچگی کی سہولت، دائمی بیماریوں کے علاج اور ذہنی صحت کی خدمات تک رسائی سے محروم ہیں، متعدد علاقوں میں صورتِ حال سنگین ہے جہاں 59 فیصد افراد نے اپنی صحت کو خراب یا بہت خراب قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یوکرین کے عوام میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن میں بھی اضافہ رپورٹ ہوا ہے مگر متاثرہ افراد کی بڑی تعداد کو مناسب علاج میسر نہیں۔
بجلی اور توانائی کے انفرااسٹرکچر پر حملوں کے باعث اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز، لیبارٹری ٹیسٹ اور ویکسین کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یوکرین میں طبی عملہ بھی شدید خطرات میں کام کر رہا ہے، ایمبولینسز اور طبی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
Pages:
[1]