عالمی جوہری ایجنسی کا ایران سے انسپیکشن کا مطالبہ، اصفہان شہر مرکزِ توجہ
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-28/1560697_2967795_News4_updates.jpg—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیاانٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی زیادہ تر 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم اصفہان میں واقع زیرِ زمین سرنگ پر مبنی کمپلیکس میں محفوظ کر رکھی ہے اور تہران سے فوری معائنوں کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران بدستور 60 فیصد تک یورینیئم افزودہ کر رہا ہے جو ہتھیاروں کے معیار سے صرف ایک قدم دور سمجھی جاتی ہے۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رپورٹ میں اصفہان کی تنصیب تک رسائی نہ ملنے پر تشویش کا اظہار اور معائنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-26/1560094_103418_updates.jpg
ایران ایسے ہتھیار رکھتا ہے جو امریکا پر حملے کیلئے بنائے گئے ہیں: مارکو روبیو
مارکو روبیو نے کہا کہ جنیوا مذاکرات میں ایران کا بیلسٹک میزائل پر بات نہ کرنا بڑی رکاوٹ تھی۔ امید ہے ایران کے ساتھ مذاکرات نتیجہ خیز رہیں۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
واضح رہے کہ امریکا کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ سال 12 روزہ جنگ کے دوران اس نے اصفہان سمیت 3 ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کر دیا تھا۔
اس سے متعلقآئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران اصفہان میں ایک چوتھی افزودگی تنصیب بھی قائم کر رہا تھا تاہم معائنہ کاروں کو اس کے درست مقام اور عملی حیثیت کے بارے میں علم نہیں، سیٹلائٹ تصاویر میں سرنگ کے داخلی راستے پر معمول کی گاڑیوں کی آمد و رفت دیکھی گئی ہے جہاں 20 اور 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم ذخیرہ کی گئی تھی۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان عمان کی ثالثی میں جنیوا میں مذاکرات کا تیسرا دور بے نتیجہ ختم ہوا۔
آئندہ ہفتے ویانا میں آئی اے ای اے کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں اس معاملے پر غور کیا جائے گا جبکہ اسی دوران عمان کی ثالثی میں تکنیکی مذاکرات بھی جاری رہیں گے۔
ایجنسی کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ تقریباً 440 کلوگرام یورینیئم کے ذخیرے کے مستقبل پر بھی غیر یقینی سی صورتِ حال ہے جس کا آخری بار معائنہ گزشتہ سال 10 جون کو کیا گیا تھا۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-28/1560674_072522_updates.jpg
ایران کے ساتھ مذاکرات سے خوش نہیں، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات سے خوش نہیں، ایران کو کسی بھی سطح پر یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، ایران چاہتاہےتھوڑی بہت یورینیم افزودگی کرے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
دوسری جانب ایران نے اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کر دیا تھا اور متاثرہ مقامات تک رسائی محدود کر دی تھی جبکہ تہران کا الزام ہے کہ ایجنسی نے حملوں کی مذمت نہیں کی تھی۔
واضح رہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ مذاکرات کے بعد کہا تھا کہ امریکا کو اپنے ’غیر ضروری مطالبات‘ ترک کرنا ہوں گے، امریکا ایران سے جوہری ڈھانچہ ختم کرنے، بیلسٹک میزائل پروگرام محدود کرنے اور خطے میں اپنے اتحادیوں کی حمایت بند کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
Pages:
[1]