Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 597|Reply: 0

عالمی جوہری ایجنسی کا ایران سے انسپیکشن کا مطالبہ، اصفہان شہر مرکزِ توجہ

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

2010K

Credits

论坛元老

Credits
205252
Post time 2026-2-28 16:34:29 | Show all posts |Read mode
  —فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی زیادہ تر 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم اصفہان میں واقع زیرِ زمین سرنگ پر مبنی کمپلیکس میں محفوظ کر رکھی ہے اور تہران سے فوری معائنوں کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران بدستور 60 فیصد تک یورینیئم افزودہ کر رہا ہے جو ہتھیاروں کے معیار سے صرف ایک قدم دور سمجھی جاتی ہے۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رپورٹ میں اصفہان کی تنصیب تک رسائی نہ ملنے پر تشویش کا اظہار اور معائنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔   
ایران ایسے ہتھیار رکھتا ہے جو امریکا پر حملے کیلئے بنائے گئے ہیں: مارکو روبیو

مارکو روبیو نے کہا کہ جنیوا مذاکرات میں ایران کا بیلسٹک میزائل پر بات نہ کرنا بڑی رکاوٹ تھی۔ امید ہے ایران کے ساتھ مذاکرات نتیجہ خیز رہیں۔   

واضح رہے کہ امریکا کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ سال 12 روزہ جنگ کے دوران اس نے اصفہان سمیت 3 ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کر دیا تھا۔

اس سے متعلق  آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران اصفہان میں ایک چوتھی افزودگی تنصیب بھی قائم کر رہا تھا تاہم معائنہ کاروں کو اس کے درست مقام اور عملی حیثیت کے بارے میں علم نہیں، سیٹلائٹ تصاویر میں سرنگ کے داخلی راستے پر معمول کی گاڑیوں کی آمد و رفت دیکھی گئی ہے جہاں 20 اور 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم ذخیرہ کی گئی تھی۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان عمان کی ثالثی میں جنیوا میں مذاکرات کا تیسرا دور بے نتیجہ ختم ہوا۔  

آئندہ ہفتے ویانا میں آئی اے ای اے کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں اس معاملے پر غور کیا جائے گا جبکہ اسی دوران عمان کی ثالثی میں تکنیکی مذاکرات بھی جاری رہیں گے۔

ایجنسی کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ تقریباً 440 کلوگرام یورینیئم کے ذخیرے کے مستقبل پر بھی غیر یقینی سی صورتِ حال ہے جس کا آخری بار معائنہ گزشتہ سال 10 جون کو کیا گیا تھا۔   
ایران کے ساتھ مذاکرات سے خوش نہیں، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات سے خوش نہیں، ایران کو کسی بھی سطح پر یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، ایران چاہتاہےتھوڑی بہت یورینیم افزودگی کرے۔   

دوسری جانب ایران نے اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کر دیا تھا اور متاثرہ مقامات تک رسائی محدود کر دی تھی جبکہ تہران کا الزام ہے کہ ایجنسی نے حملوں کی مذمت نہیں کی تھی۔

واضح رہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ مذاکرات کے بعد کہا تھا کہ امریکا کو اپنے ’غیر ضروری مطالبات‘ ترک کرنا ہوں گے، امریکا ایران سے جوہری ڈھانچہ ختم کرنے، بیلسٹک میزائل پروگرام محدود کرنے اور خطے میں اپنے اتحادیوں کی حمایت بند کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-2-28 12:50 GMT+5 , Processed in 0.052774 second(s), 22 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list