اسکاٹ لینڈ نے آخری رسومات کی نئی تکنیک متعارف کروا دی
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-03-04/1561878_9132048_22_updates.jpgفائل فوٹو
اسکاٹ لینڈ نے بوائل ان اے بیگ کے نام سے آخری رسومات کی نئی تکنیک متعارف کرائی ہے جس میں لاشوں کو تحلیل کیا جاتا ہے۔
1885ء کے بعد برطانیہ کا یہ پہلا حصہ اسکاٹ لینڈ ہوگا جس نے تدفین کے قوانین میں سب سے بڑی تبدیلی متعارف کرائی ہے۔
یہ متبادل تکنیک جسے الکلائن ہائیڈولیسس کا نام دیا گیا ہے کو ایک ماحول دوست متبادل طریقہ قرار دیا جا رہا ہے اس میں بڑی مقدار میں قدرتی گیس کا استعمال کیا جاتا ہے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق نئے طریقہ کار میں مردہ جسم کو بایو ڈیگریڈیبل کفن میں لپیٹا جاتا ہے جو اکثر ریشم یا اون سے بنا ہوتا ہے۔
اس کے بعد اسے اسٹیل کے دباؤ والے چیمبر میں رکھا جاتا ہے جس کے بعد ٹینک کو 95 فیصد پانی اور 5 فیصد الکلائن کیمیکل جیسے پوٹاشیم ہائیڈرو آکسائیڈ سے بنا مائع سے بھرا جاتا ہے، پانی کو 150 سینٹی گریڈ کے درجۂ حرارت پر گرم کیا جاتا ہے، 3 سے 4گھنٹوں کے دوران جسم تحلیل ہونے کا عمل مکمل ہوتا ہے تو تابوت میں دہائیوں تک ممکن نہیں ہوتا۔
بعد ازاں اس مائع کو ٹھنڈا کر کے نالوں میں بہا دیا جاتا ہے (کائنڈلی ارتھ) جس کے پاس اسکاٹ لینڈ میں الکلائن ہائیڈرولیسس کے قانونی حقوق محفوظ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ فضلہ مائع جراثیم سے پاک ہے اور اس میں کوئی ٹھوس چیز یا ڈی این اے نہیں ہے۔
پروسیسنگ کے بعد ہڈیوں کو احتیاط کے ساتھ خشک کر کے باریک سفید پاﺅرڈ میں تبدیل کیا جاتا ہے اور ایک راکھ کی شکل میں لواحقین کے سپرد کر دیا جاتا ہے، اس پراسس کی قیمت سینٹر سے دوری اور مقام پر منحصر ہے ۔
Pages:
[1]