نیٹو نے ایران سے آنے والا بیلسٹک میزائل تباہ کردیا: ایران کی ترکیہ کی طرف میزائل فائر کرنے کی تردید
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-03-05/1562197_724673_News9_updates.jpgفوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
ترکیہ کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران سے فائر کیا گیا ایک بیلسٹک میزائل نیٹو کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام نے مشرقی بحیرۂ روم کے اوپر تباہ کر دیا ہے۔
ترکیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق میزائل کو بروقت نشانہ بنا کر ناکارہ کر دیا گیا اور اس واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
ترکیہ کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ ترکیہ اپنی فضائی حدود کے خلاف کسی بھی دشمنانہ اقدام کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دوسری جانب عرب میڈیا کے مطابق ایران کی مسلح افواج نے ترکیہ کی جانب میزائل فائر کرنے کی سختی سے تردید کی ہے۔https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-03-05/1562139_104101_updates.jpg
ایران کے پاس 50 ہزار میزائل، 4 دن ہی میں امریکا و اسرائیل کے مہنگے ترین میزائل سسٹمز پر دباؤ بڑھ گیا
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے صرف چار دن بعد ہی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کے مہنگے ترین دفاعی میزائل سسٹمز، خاص طور پر پیٹریاٹ اور ٹوماہاک میزائل تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے کہا ہے کہ ایران ترکیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ ملک اپنی سرحدوں اور فضائی حدود کے تحفظ کے لیے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر تمام ضروری اقدامات کر رہا ہے اور آئندہ ایسے واقعات روکنے کے لیے واضح انتباہ جاری کیے گئے ہیں۔
ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حکان فیدان نے بھی اپنے ایرانی ہم منصب سے رابطہ کر کے اس واقعے پر انقرہ کا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
نیٹو نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتحاد اپنے تمام رکن ممالک، خصوصاً ترکیہ کے ساتھ کھڑا ہے تاہم امریکی وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ اس واقعے کے بعد نیٹو کے اجتماعی دفاع کے آرٹیکل 5 کے نفاذ کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ترکیہ میں واقع انجرلک ایئر بیس نیٹو اور خصوصاً امریکی افواج کے لیے ایک اہم عسکری اڈہ سمجھا جاتا ہے جو ماضی میں عراق اور افغانستان میں امریکی آپریشنز کے لیے اہم لاجسٹک مرکز رہا ہے۔
Pages:
[1]