نیب ترمیمی بل سینیٹ سے منظور، اپوزشن کا شدید احتجاج، بل کی کاپیاں پھاڑ دیں
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-03-05/1562199_1865464_000000_updates.jpg---فائل فوٹو
سینیٹ نے نیب ترمیمی بل منظور کرلیا، اجلاس کے دوران اپوزشن نے شدید احتجاج کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔
سینیٹر عبدالقادر پٹیل نے نیب ترمیمی بل سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا تھا۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے بل پیش کرنے کی تحریک پر ایوان سے ووٹنگ کروائی۔
بل کے متن کے مطابق نئے چیئرمین کی تقرری تک موجودہ چیئرمین نیب اپنی ڈیوٹی انجام دیتے رییں گے، اپنی مدت پوری ہونے کے بعد چیئرمین نیب کام کرتے رہیں گے، ہائی کورٹ کے فیصلے سے متاثرہ شخص 30 دن کے اندر وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کرسکتا ہے۔
نیب بل کے مطابق اپیل صرف اس صورت میں دائر کی جاسکے گی جب معاملہ قانون کے کسی اہم سوال پر مبنی ہو، اپیل اس صورت میں ہوگی جب طریقہ کار میں سنگین غلطی ہو یا نقص کے باعث انصاف کی سنگین خلاف ورزی واقع ہوئی ہو، اس کے علاوہ کسی بنیاد پر اپیل قابل سماعت نہیں ہوگی۔
کامران مرتضیٰ نے اعتراض اٹھایا کہ یہ بل کیسے ایوان میں پیش کر رہے ہیں، نہ بل ایجنڈا پر ہے اور نہ ہی یہ ضمنی ایجنڈا کے طور پر آیا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2022-05-27/1091501_123906_updates.jpg
نیب اور الیکشن ایکٹ ترمیمی بل سینیٹ سے منظور
سینیٹ نے نیب اور الیکشن ایکٹ ترمیمی بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ ابھی نیب کی عدالت کے فیصلے کے بعد معاملہ ہائی کورٹ جاتا ہے، ابھی قانون کے مطابق اپیل سپریم کورٹ جاتی ہے، اب آئینی عدالت بنائی گئی، کہا گیا کہ آئینی معاملات آئینی کورٹ میں جائیں گے، بانی کے کیسز کے فیصلے ہوچکے ہیں اوراپیل ہائی کورٹ میں لگ رہی ہے، جس کے بعد یہ سپریم کورٹ جانا تھی، اب یہ کر رہے ہیں کہ نیب کی اپیل سپریم کورٹ کے بجائے آئینی کورٹ جائے۔
انہوں نے کہا کہ تاثر کیا مل رہا ہے، اس کی وجہ لگ رہی ہے کہ سپریم کورٹ حکومت کے ہاتھ میں نہیں، سپریم کورٹ نے انصاف کے مطابق فیصلہ کرنا ہے، آپ کرمنل کیس آئینی عدالت لے جا رہے ہیں، آپ ایسی عدالت میں کیس لے کر جارہے ہیں جو حکومت کے کنٹرول میں ہو، نیب کا چیئرمین وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے بنتا ہے، اب آپ کہہ رہے ہیں کہ نیب چیئرمین کو توسیع دے دیں، آپ ایسا کریں جن عہدوں کو توسیع دینی ہے ان عہدوں کو تاحیات قرار دے دیں۔
Pages:
[1]