|
|
تصویر سوشل میڈیا۔
ماسکو میں افغانستان پر ماسکو فارمیٹ کے اجلاس میں شرکا نے آزاد، متحد اور پرامن افغانستان کے قیام کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے دو طرفہ و کثیرالملکی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، شرکا نے افغانستان اور خطے میں امن کیلئے بیرونی فوجی ڈھانچے کے قیام کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا افغانستان کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار بحالی اور ترقی کے وعدے پورے کریں۔
اجلاس کے شرکا نے افغان سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کیلئے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا، افغانستان کی علاقائی روابط کے نظام میں فعال شمولیت کی حمایت کی گئی۔
اجلاس میں پاکستان، افغانستان، بھارت، ایران، قازقستان، چین، کرغزستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان کے نمائندے شریک ہوئے جبکہ بیلاروس کے وفد نے بطور مہمان اجلاس میں شرکت کی۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی پہلی بار بطور رکن اجلاس میں شریک ہوئے۔
View this post on Instagram
A post shared by Geo News Urdu (@geourdudottv)
روسی وزارت خارجہ کے مطابق شرکا نے آزاد، متحد اور پرامن افغانستان کے قیام کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور افغانستان اور خطے کے درمیان اقتصادی وتجارتی تعاون کے فروغ پر زور دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
- ماسکو اجلاس، افغانستان میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کی تصدیق
- افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، عبوری حکومت
شرکا نے زراعت، صحت اور غربت کے خاتمے اور آفات سے نمٹنے کے منصوبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق افغانستان کی علاقائی روابط کے نظام میں فعال شمولیت کی حمایت کی گئی، شرکا نے افغان عوام کیلئے انسانی امداد کے تسلسل اور غیرسیاسی رکھنے پر زور دیا۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق دہشتگردی کے خاتمے کیلئے دو طرفہ و کثیرالملکی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، افغان سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کیلئے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور مطالبہ کیا جو افغانستان کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں وہ بحالی اور ترقی کے وعدے پورے کریں۔ |
|