|
|
تصویر سوشل میڈیا۔
عالمی شہرت یافتہ بھارتی گلوکار، موسیقار، میوزک کمپوزر، گیت نگار اور ریکارڈ پروڈیوسر اے آر رحمان نے اشارتاً کہا ہے کہ گزشتہ 8 برسوں سے وہ بالی ووڈ میں کام سے محروم ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ جو لوگ تخلیقی نہیں ہیں، اب ان کے پاس طاقت ہے۔
جنوبی بھارتی شہر چنئی سے تعلق رکھنے والے 59 سالہ گلوکار نے کہا کہ فلم تال تک وہ خود کو بالی ووڈ میں ایک آؤٹ سائیڈر ہی محسوس کرتے تھے۔ انہوں نے فلم انڈسٹری میں حالیہ پاور شفٹ پر بھی روشنی ڈالی، جس کے باعث ان کے لیے کام کے مواقع متاثر ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ آسکر ایوارڈ یافتہ اے آر رحمان گزشتہ چند سالوں کے دوران بھارتی سنیما کو چند بہترین اور آئیکونک گیت دے چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے سے ایک حالیہ گفتگو میں اے آر رحمان نے انکشاف کیا کہ ہندی فلم انڈسٹری میں طاقت کے توازن میں آنے والی تبدیلی نے ان تک پہنچنے والے کام کو کس طرح متاثر کیا۔
اے آر رحمان نے کہا کہ وہ بطور تامل کمپوزر کے سبھاش گھئی کی 1999 کی فلم تال تک خود کو باہر والا ہی محسوس کرتے تھے۔
انھوں نے کہا دراصل تین فلموں (روجا، بمبئی، دل سے) کے بعد بھی ایک آؤٹ سائیڈر ہی تھا، لیکن تال ایک ہاؤس ہولڈ (البم) بن گئی۔ یا یوں کہیے کہ ہر گھر کے کچن تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیے
- والدین کو رشتہ داروں نے گھر سے نکال کر سڑک پر پھینک دیا تھا، اے آر رحمان
- اے آر رحمٰن کو اسلام قبول کرتے ہوئے خاندانی دباؤ کا سامنا ہوا: بھارتی فلمساز کا انکشاف
- اے آر رحمان موسیقی سے وقفہ لینے والے ہیں؟ بچوں نے وضاحت دے دی
آج بھی زیادہ تر شمالی ہند کی رگوں میں یہ موسیقی رچی بسی ہے، کیونکہ اس میں تھوڑی پنجابی، تھوڑی ہندی اور تھوڑی پہاڑی موسیقی کا رنگ بھی ہے۔ ایک تامل کے لیے ہندی بولنا بہت مشکل ہوتا ہے، کیونکہ ہماری اپنی زبان سے بہت گہری وابستگی ہوتی ہے۔
انھوں نے اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ کیسے سبھاش گھئی نے ان سے ہندی سیکھنے کو کہا کہ جس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اردو سیکھو، کیونکہ یہ زبان ہندی فلمی میوزک کی 1960 اور 70 کے عشروں کی ماں رہی ہے۔ بعدازاں عربی سیکھی جو کہ ادائیگی میں اردو سے ملتی جلتی ہے پھر سکھویندر سنگھ کے اثرات کی وجہ سے پنجابی کی جانب بھی گیا۔ |
|