|
|
حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز اقدامات کی تعریف کے نام پر مقدس ہستیوں کی توہین سے متعلق قانون بیک ڈور کے ذریعے متعارف نہیں کرائے گی۔
یہ بات کمیونٹیز کے سیکریٹری اسٹیو ریڈ نے وزرا کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز اقدامات کی نئی تعریف تیار کرنے کے حوالے سے کہی۔
اسٹیو ریڈ نے کہا کہ ورکنگ گروپ کی سفارشات کی بنیاد پر تیار کی گئی، نئی تعریف جلد متعارف کرائی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی موجودگی میں کسی خاص مذہب یا عمومی طور پر مذہب پر تنقید کے حق پر کوئی پابندی نہیں لگائی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی کہ لوگوں کو بدسلوکی اور تعصب سے محفوظ رکھا جائے، مسلم مخالف نفرت یا اسلاموفوبیا کی تعریف تیار کرنے کے لیے ایک ورکنگ گروپ نے گزشتہ برس فروری میں کام کا آغاز کیا تھا۔
ورکنگ گروپ کی سربراہی بیرسٹر اور سابق کنزرویٹو اٹارنی جنرل ڈومینک گریو کر رہے ہیں، اس گروپ کا مقصد ایسی تعریف تشکیل دینا ہے، جو برطانوی مسلمانوں کے وسیع تر تناظر اور ان کی ترجیحات کی عکاسی کرے۔
حکومت نے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ یہ تعریف قانون میں نہیں لکھی جائے گی اور نہ ہی اسے قانونی طور پر پابند کیا جائے گا، بلکہ اس کا مقصد مسلمانوں اور متعلقہ اداروں کو مسلمانوں کے خلاف ناقابلِ قبول رویوں اور تعصب کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔
اس حوالے سے وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر بھی پارلیمنٹ میں واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ حکومت کسی قسم کا مقدس ہستیوں کی توہین کا قانون متعارف نہیں کرائے گی۔ |
|