|
|
تصویر سوشل میڈیا۔
چین میں والدین اپنے بچوں کو شادی پر آمادہ کرنے اور دباؤ ڈالنے کے لیے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز استعمال کر رہے ہیں جن میں پچھتاوے میں مبتلا کردار دکھائے جاتے ہیں۔
چین میں 2024 کے دوران شادیوں کی 61 لاکھ 6 ہزار رجسٹریشنز ریکارڈ کی گئیں، جس سے سالانہ بنیاد پر 20.5 فیصد کم شادیاں ظاہر ہوئی ہیں۔
چینی خبر رساں ادارے اور چین کی وزارتِ شہری امور کے مطابق ملک میں شادی کی قومی شرح صرف 4.3 فیصد فی ہزار ہے۔ ان تشویشناک اعداد و شمار کے خلاف سب سے پہلے میدان میں آنے والے والدین ہیں، جو اپنی اولاد کو شادی کرنے اور خاندان بنانے پر آمادہ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔
متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارمز جیسے ڈوئین، چینی ٹک ٹاک ورژن اور ویبو اس وقت مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز سے بھرے پڑے ہیں۔ ان ویڈیوز میں عمر رسیدہ کردار دکھائے گئے ہیں جو اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ انہوں نے جوانی میں اپنے والدین کی بات نہیں مانی اور خاندان شروع نہیں کیا۔
ایک اے آئی جنریٹیڈ ویڈیو میں 58 سالہ خاتون کو اسپتال جانے کے دوران اکیلے دیکھایا گیا، جبکہ آس پاس کے بستروں پر موجود دیگر مریضوں کی دیکھ بھال ان کے اہلِ خانہ کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
- چین کے گاؤں میں غیر صوبائی شادی، بغیر نکاح رہائش اور حمل پر جرمانے
- چین میں خواتین کو امیروں سے شادی کے طریقے سکھانے والی لَو گرو
- چین: شادی پر کرائے کے باراتی لانے پر دولہا گرفتار
ایک اور کلپ میں 56 سالہ کردار اپنے والدین کی اس نصیحت کو نظرانداز کرنے پر افسوس کا اظہار کرتی ہے کہ اس نے بروقت خاندان نہیں بنایا۔
اس بڑھتے رجحان کو والدین کی طرف سے اپنی اولاد کو خاندان شروع کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے سائبر محاصرے کا نام دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ افراد کے درمیان سماجی تقسیم مزید گہرا ہوسکتا ہے، لیکن اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند والدین کو اس کی زیادہ پرواہ نہیں ہے۔ |
|