ہر سال جنوری کے تیسرے پیر کو دنیا بھر میں ایک اصطلاح گردش کرتی ہے جسے بلیو منڈے کہا جاتا ہے اور اسے سال کا سب سے افسردہ دن قرار دیا جاتا ہے۔
اس سال یہ دن پیر 19 جنوری کو منایا گیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق بلیو منڈے کو سائنسی طور پر سال کا سب سے اداس دن قرار دینا درست نہیں۔
درحقیقت بلیو منڈے کا تصور 2005 میں برطانیہ کی ایک ٹریول کمپنی کی تشہیری مہم کے لیے ماہرِ نفسیات کلف آرنل (Cliff Arnall) نے پیش کیا تھا، انہوں نے ایک فرضی اور غیر سائنسی فارمولہ تیار کیا جس میں چھٹیوں کے بعد مالی دباؤ، نئے سال کے وعدے پورے نہ ہونے کی مایوسی اور خراب موسم جیسے عوامل شامل کیے گئے، تاکہ لوگوں کو چھٹیاں گزارنے کی ترغیب دی جا سکے۔
آٹزم سے آگاہی کے فروغ کیلئے نیا اقدام، آٹسٹک باربی متعارف
آٹسٹک باربی میں وہ خصوصیات شامل کی گئی ہیں جو حقیقی زندگی میں آٹسٹک بچوں کے تجربات کی عکاسی کرتی ہیں
اگرچہ یہ تصور ایک مارکیٹنگ حکمتِ عملی تھا، مگر یہ عوام میں اس لیے مقبول ہوگیا کیونکہ یہ ان حقیقی مسائل سے جڑ گیا جس کا سامنا لوگ سردیوں میں کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سردیوں کے دوران دن چھوٹے ہو جانا، دھوپ کی کمی، مالی دباؤ اور عمومی سستی یا کم حوصلہ ہونا واقعی ذہنی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
بلیو منڈے کی بڑھتی ہوئی تشہیر کے پیشِ نظر ذہنی صحت کے لیے کام کرنے والے اداروں نے اس دن کو مثبت مقصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
Samaritans اور Mind جیسے ادارے اس دن کو ذہنی صحت پر گفتگو، آگاہی اور ذہنی بیماری سے جڑی بدنامی (stigma) کے خاتمے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ بلیو منڈے کی کوئی سائنسی حیثیت نہیں، تاہم ونٹر بلیوز ایک حقیقی کیفیت ہو سکتی ہے، وہ موڈ بہتر بنانے کے لیے چند عملی تجاویز دیتے ہیں، جس میں قدرتی روشنی میں وقت گزارنا، دوستوں اور خاندان سے رابطہ برقرار رکھنا، باقاعدہ ورزش کرنا اور نیند کو ترجیح دینا شامل ہیں۔