|
|
27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف وکلاء کنونشن تنازع کا شکار ہو گیا۔
کراچی بار اور سندھ ہائی کورٹ بار کے جنرل سیکریٹریز نے 27ویں ترمیم کے خلاف وکلاء کنونشن ہر صورت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری مرزا سرفراز کی جانب سے 22 نومبر کو بلایا گیا وکلاء کنونشن ہائی کورٹ بار کے صدر سرفراز میتلو اور مینجنگ کمیٹی کے ممبران نے یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیا تھا کہ اعزازی سیکریٹری کو وکلاء کنونشن بلانے کا اختیار نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے
- لاہور ہائیکورٹ،27 ویں آئینی ترمیم کیخلاف ایک اور درخواست، فل بنچ تشکیل
- اسلام آباد ہائیکورٹ کے 4 ججز کا 27ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ
دوسری جانب جنرل سیکریٹری اور کراچی بار نے ہر صورت آج وکلاء کنونشن کرنے کا اعلان کیا ہے جو کہ سندھ ہائی کورٹ کے سامنے سڑک پر منقعد کیا جا رہا ہے۔
کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا ہے کہ ہم کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتے، وکلاء کنونشن سندھ ہائی کورٹ کے سامنے روڈ پر منعقد کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلے کنونشن سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ہال میں کرنے کا اعلان کیا تھا، ہال میں منع کیا گیا تو کنونشن سندھ ہائی کورٹ کے احاطے میں کرنے کا اعلان کیا، ہائی کورٹ کے احاطے میں بھی وکلاء کنونشن منعقد کرنے سے روکا گیا ہے۔
واضح رہے کہ صدر سندھ ہائی کورٹ بار نے آج بلایا گیا وکلاء کنونشن منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر نے اپنے بیان میں سیکریٹری ہائی کورٹ بار کی جانب سے بلایا گیا آج کا وکلاء کنونشن منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ |
|