Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 1003|Reply: 0

ٹیلر سوئفٹ کا اعزاز، دنیا کی امیر ترین خاتون موسیقار بن گئیں

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

1910K

Credits

论坛元老

Credits
193996
Post time 2025-12-15 20:06:12 | Show all posts |Read mode
  فائل فوٹو

معروف امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ نے ایک اور عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا، ان کی مجموعی دولت 1.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جس کے بعد وہ دنیا کی امیر ترین خاتون موسیقار بن گئیں۔

فوربز کی تازہ ترین درجہ بندی کے مطابق ٹیلر سوئفٹ نے گلوکارہ ریحانہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جن کی دولت کا تخمینہ تقریباً 1.4 ارب ڈالر بتایا جاتا ہے، جو زیادہ تر ان کے فینٹی بیوٹی اور سیویج ایکس فینٹی برانڈز سے جڑی ہوئی ہے۔

ٹیلر سوئفٹ کی کامیابی کا خاص پہلو یہ ہے کہ ان کی دولت کا بڑا حصہ کسی بڑے بزنس ایمپائر کے بجائے براہِ راست ان کے موسیقی کیریئر، شاندار کنسرٹ ٹورز اور گانوں کی فروخت سے حاصل ہوا ہے۔   
ٹیلر سوئفٹ سب سے زیادہ سنی جانے والی عالمی فنکارہ بن گئیں

اس نئے ریکارڈ کے بعد سوئفٹ کا گانا The Fate of Ophelia یکم دسمبر کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ سنا جانے والا گانا بن گیا۔    

خصوصی طور پر ان کا دی ایراز ٹور (The Eras Tour) مالی لحاظ سے سنگِ میل ثابت ہوا، جس نے دنیا بھر میں تمام سابقہ ریکارڈز توڑتے ہوئے تاریخ کے کامیاب ترین کنسرٹ ٹورز میں اپنا نام درج کروایا، اس ٹور نے ٹیلر کی دولت میں نمایاں اضافہ کیا۔

اس کے علاوہ ان کے میوزک کیٹلاگ کی مالیت بھی سیکڑوں ملین ڈالر بتائی جاتی ہے، جبکہ اسٹریمنگ، لائسنسنگ اور البمز کی فروخت سے حاصل ہونے والی رائلٹیز بھی ان کی آمدن کا اہم ذریعہ ہیں۔

ٹیلر سوئفٹ نے کاروباری حکمتِ عملی کے تحت اپنے پرانے البمز کو دوبارہ ریکارڈ کر کے ان کے حقوق واپس حاصل کیے، جس سے ناصرف ان کی رائلٹیز میں اضافہ ہوا بلکہ ان کے میوزک کیٹلاگ کی قدر بھی کئی گنا بڑھ گئی۔

اس کے ساتھ ساتھ ان کی رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری بھی قابلِ ذکر ہے، جہاں امریکا بھر میں موجود ان کی قیمتی جائیدادیں ان کی مجموعی دولت میں مزید کروڑوں ڈالر کا اضافہ کرتی ہیں۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-1-16 07:11 GMT+5 , Processed in 0.081461 second(s), 21 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list