ایران میں پرتشدد مظاہروں کے باعث 2500 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ فوٹو: بشکریہ غیرملکی میڈیا
ایران میں پُرتشدد مظاہروں اور ممکنہ امریکی حملے کے خطرے کے باعث برطانیہ نے ایران سے سفارتخانے عملے کو واپس بلا لیا ہے۔ برطانوی سفیر اپنے عملے سمیت ایران سے روانہ ہوگیا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق یو کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس نے کہا کہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ہم نے ایران سے سفارتی عملے کو عارضی طور پر واپس بلایا ہے۔
ایران اور اسرائیل نے حملے میں پہل نہ کرنے کا یقین دلادیا، امریکی اخبار
امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل نے حملے میں پہل نہ کرنے کا یقین دلادیا ہے۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی صورتحال تیزی سے خراب ہوسکتی ہے جس سے سفارتی عملے کو خطرات لاحق ہیں، اپنے شہریوں کو بھی ایران کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
برطانوی حکام نے کہا کہ ایران میں برطانوی شہریوں کے لیے مدد انتہائی محدود ہے، کسی ہنگامی صورت حال میں قونصلر مدد بھی ممکن نہیں۔
واضح رہے کہ برطانیہ پہلے بھی اپنے شہریوں کو ایران کا غیرضروری سفر نہ کرنے کا مشورہ دے چکا ہے۔
ایران میں مہنگائی کی وجہ سے شروع ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں اب تک 2500 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔