چین میں 2025 میں مسلسل چوتھے سال شرحِ پیدائش کم رہی اور آبادی مزید گھٹ کر عمر رسیدہ ہوگئی۔
مغربی میڈیا کے مطابق چین میں پیدائشیں، اموات سے کم ہیں جس کے باعث ملک آبادیاتی بحران کے دہانے پر ہے۔
چینی حکومت کا شرحِ پیدائش بڑھانے کیلئے اقدام، ہر بچے کی پیدائش پر والدین کو 500 ڈالر سالانہ دینے کا اعلان
یہ اسکیم ملک بھر میں تقریباً 2 کروڑ خاندانوں کو بچوں کی پرورش کے اخراجات میں سہولت فراہم کرے گی
چینی کمیونسٹ پارٹی نے بچوں کی پیدائش کو حب الوطنی قرار دینے، فیملی پلاننگ کی حوصلہ شکنی اور کنڈوم پر ٹیکس جیسے اقدامات کیے مگر نتیجہ نہیں نکلا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق کئی ملکوں میں شرحِ پیدائش کم ہو رہی ہے مگر چین میں مسئلہ زیادہ سنگین ہے کیونکہ کم بچے مستقبل میں کم افرادی قوت اور زیادہ ریٹائرڈ آبادی کا بوجھ لائیں گے۔
ماہرین کے مطابق چین اب ایسی حد پار کرچکا ہے جہاں کم شرحِ تولید کے سبب آبادی کا سکڑاؤ روکنا مشکل ہو چکا ہے۔