|
|
فائل فوٹوز
وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ اور پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں ترمیم پر تکرار ہوگئی۔
امین الحق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں ترمیم پر غور کیا گیا۔
اس موقع پر چیئرمین کمیٹی امین الحق نے کہا کہ ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں اچھی ترامیم لائی جارہی ہیں، جمہوری طریقہ کار ہے کہ ایوان کو ساتھ لے کر چلیں، ارکان کا کہنا ہے کہ اس بل سے متعلق ان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
شرمیلا فاروقی نے شکوہ کیا کہ حکومت نے پیپلزپارٹی کی قانون ساز کمیٹی سے یہ بل ڈسکس نہیں کیا۔
جس پر شزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ اس بل پر آئی ایم ایف کی وجہ سے جلدی ہے، ایس او ای کی وجہ سے آئی ایم ایف کی کمپلائنس پر عملدرآمد ضروری ہے۔
شرمیلا فاروقی نے کہا کہ اگر پارٹی کی قانون ساز کمیٹی سے منظور ہوجاتا ہے تو ہمیں ایشو نہیں، رائٹ آف وے کے حوالے سے ترمیم تمام قوانین کو اوور رائٹ کررہی ہے۔
وزیر آئی ٹی نے جواب دیا کہ ہم بل کو ریڈ ڈاؤن کرلیتے ہیں تاکہ وقت کی بچت ہو، تمام صوبوں نے رائٹ آف وے چارجز ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
وزارت قانون کے حکام نے بتایا کہ یہ ایک اسپیشل قانون ہے، جس کے تحت یہ لکھا گیا ہے۔
رکن پیپلز پارٹی نے کہا کہ نئی ترمیم کے تحت 22 دنوں میں منظور ہو جائے گی، رائٹ آف وے کے لیے کیا تمام قوانین کو سپر سیڈ کر لیا جائے گا، اس کا مطلب ہے اگر ماحولیات کو نقصان پہنچایا جائے تو کوئی قانون لاگو نہیں ہوگا، کوئی بھی ہیریٹیج سائٹ ہوگی اس کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ اگر زمین کا مالک 21 دن میں جواب نہ دے تو فیصلہ ہوجائے گا، زمین کے اونر کو ایک بار نوٹس دے کر سماعت کا موقع دینا چاہیے۔
شزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ اس ترمیم میں لکھا ہے کہ لائسنس کنندہ کو اس سائٹ کو اصل حالت میں بحال کرنا ہوگا، 98 فیصد لوگ موبائل پر براڈبینڈ چلاتے ہیں، فائبرائزیشن نہیں ہورہی کیونکہ ہر اونر اپنا مسئلہ بنا کر بیٹھا ہوا ہے، اگر یہی صورتحال رہی تو نہ فائیو جی چلے گا نہ انٹرنیٹ چلے گا، ہمیں ہر صورت میں فائبرائزیشن کی راہ میں رکاوٹیں دور کرنی چاہیں۔
شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ہمیں شہریوں کے آئینی حقوق کو پامال نہیں کرنا چاہیے جس پر شزہ فاطمہ نے جواب دیا کہ کسی شہری کا کوئی آئینی حق پامال نہیں ہورہا۔
شرمیلا فاروقی نے اجلاس میں سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ منیجنگ ڈائریکٹر جب تعینات کیا جائے تین سال تک عہدے سے ہٹایا نہیں جاسکتا، یہ کیسے ممکن ہے اگر ایک ایم ڈی تین سال تک ہٹایا نہیں جاسکتا۔
شزہ فاطمہ نے جواب دیا کہ ایس او ای ایکٹ کے تحت یہ مجبوری بن گیا ہے، مجھے بھی اس پر شدید تحفظات ہیں، آئی ایم ایف کی وجہ سے یہ مجبوری ہے، نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کے تین آزاد ممبرز ہوں گے۔
پیپلز پارٹی کی رہنما نے کہا کہ ان ترامیم میں وفاقی کابینہ کو ہٹا کر وزیراعظم لکھا گیا ہے، جس پر شزہ فاطمہ نے کہا کہ یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ہر چیز وفاقی کابینہ کے پاس جا رہی تھی، وزارت آئی ٹی کے ایک ایک ادارے کے سربراہ کی تقرری رکی ہوتی ہے۔
دونوں رہنما کی تکرار کے بعد چیئرمین کمیٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں ترامیم کا بل مؤخر کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ کی قانون ساز کمیٹی پیپلز پارٹی کی قانون ساز کمیٹی سے مشاورت کرے گی۔
شزہ فاطمہ نے کہا کہ ہماری طرف سے اعظم نذیر تارڑ نوید قمر کیساتھ ڈسکس کریں گے۔ |
|