|
|
تصویر سوشل میڈیا۔
کچھ قدرتی اجزاء میں جراثیم کش خصوصیات پائی جاتی ہیں، جن میں لہسن، ادرک اور شہد شامل ہیں۔ اگرچہ یہ متوازن غذا کا حصہ ہونے کے ناطے فائدہ مند ہو سکتے ہیں، لیکن یہ تجویز کردہ دواؤں کا متبادل نہیں ہیں۔
جبکہ مخصوص اینٹی بایوٹکس، جیسے پینسلین، 1940 کی دہائی سے لوگوں کو ان بیماریوں سے صحتیابی میں مدد دیتی ہیں جو پہلے جان لیوا سمجھی جاتی تھیں۔ تاہم، کچھ لوگ قدرتی اینٹی بایوٹکس پر بھی غور کرتے ہیں۔
اسکی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو اینٹی بایوٹکس لینے کے بعد مضر اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے، جیسے متلی یا اسہال وغیرہ۔ بعض لوگوں کو مخصوص اینٹی بایوٹکس سے الرجی بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود قدرتی طریقے میڈیکل دواؤں کا مکمل متبادل نہیں بن سکتے، پھر بھی وہ کسی حد تک موثر ہوسکتے ہیں۔
دواؤں کے خلاف مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا میں مسلسل اضافے کے پیشِ نظر کچھ قدرتی مرکبات پر نئے جراثیم کش عوامل کے ممکنہ متبادل کے طور پر تحقیق جاری ہے۔
1۔ لہسن: دنیا بھر کی مختلف تہذیبوں نے صدیوں سے لہسن کو بیماریوں سے بچاؤ اور علاج کے لیے مفید تسلیم کیا ہے۔ لہسن میں کئی فعال جراثیم کش اجزا پائے جاتے ہیں۔ جن میں ایلیسن، ایجوئینز اور ایلائل سلفائیڈز شامل ہیں، جو اینٹی بیکٹیریل خصوصیات رکھتے ہیں۔ 2021 کی ایک تحقیقی جائزہ رپورٹ کے مطابق، یہ مرکبات کثیر الادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا کے خلاف مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں نئی اینٹی بایوٹکس کی تیاری کے لیے ایک بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔
2) شہد: قدیم زمانے سے لوگ شہد کو اس کی زخم بھرنے کی صلاحیت اور جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ شہد میں اینٹی بیکٹیریل مرکبات پائے جاتے ہیں اور یہ ایک متبادل اینٹی بیکٹیریل ایجنٹ کے طور پر مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
3) ادرک:
سائنٹیفک کمیونٹی ادرک کو ایک قدرتی اینٹی بایوٹک تسلیم کرتی ہے۔ اس کی جراثیم کش خصوصیات کے علاوہ، 2019 کی ایک جائزے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ادرک میں اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی سوزش اور خون کو پتلا کرنے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ 2022 کی ایک تحقیق کے مطابق ادرک مختلف اقسام کے بیکٹیریا کو مؤثر طریقے سے روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
4) ایکینیشیا:
شمالی اور جنوبی امریکی براعظم میں پائے جانیوالے اس پھول کو کون فلاورز یا ایکینیشیا کہا جاتا ہے اور یہ روایتی معالجین صدیوں سے انفیکشن اور زخموں کے علاج کے لیے استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ 2022 کے ایک مضمون کے مطابق ایکینیشیا سانس کی نالی کے بیکٹیریا کے خلاف اینٹی بیکٹیریل اثر رکھتی ہے۔ اس میں اینٹی وائرل خصوصیات موجود ہو سکتی ہیں اور یہ بچوں اور بالغوں دونوں میں سانس کی نالی کے انفیکشن کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
5) لونگ:
لونگ درخت کے سوکھے ہوئے پھولوں کی کلیاں ہوتی ہیں، جنہیں لوگ کھانوں یا مشروبات میں بطور مصالحہ استعمال کرتے ہیں۔ 2023 کی ایک تحقیق کے مطابق لونگ کا ضروری تیل اسٹافائلوکوکس اوریئس کے خلاف مضبوط روک تھام کی صلاحیت رکھتا ہے۔
6) اوریگانو: اسے اردو میں نازبو یا مرزنگوش کہتے ہیں، اسے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے والا سمجھا جاتا ہے، یہ ایک اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ اوریگانو کو تیل کی شکل میں استعمال کرنے سے اینٹی بایوٹک خصوصیات بھی حاصل ہوسکتی ہیں۔ 2022 کی رپورٹ کے مطابق یہ جراثیم کش اثر ممکنہ طور پر کارواکرول نامی مرکب کی وجہ سے ہوتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔ |
|