کراچی میں فائر سیفٹی آڈٹ میں سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں، رپورٹ میں اندیشہ ظاہر کیا گیا کہ خامیوں پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں بھی واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔
کراچی کے شاپنگ پلازوں میں آتشزدگی کے واقعات میں کئی سو افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، محکمہ فائر بریگیڈ نے 2 سال پہلے بڑی عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کیا تھا۔
آگ کیسے لگی؟ اس وقت ہم بیان نہیں دے سکتے، شرجیل میمن
سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ اس وقت ہم کوئی بیان نہیں دے سکتے کہ آگ کیسے لگی۔
آڈٹ رپورٹ میں بیشتر بلند عمارتوں اور کاروباری مراکز میں اسٹینڈرڈ فائر سیفٹی نہ ہونے کا انکشاف ہوا۔
رپورٹ کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی نے فائر سیفٹی آڈٹ 2023ء کیا، جس کی رپورٹ یکم جنوری 2024ء کو کمشنر کراچی کو بھجوائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق شارع فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ، طارق روڈ اور شاہراہ قائدین کی عمارتوں کا آڈٹ کیا گیا۔
سنا تھا گل پلازا میں سیل لگی ہے کیا پتا تھا موت کی لگی ہے ،شہری
گل پلازا آتشزدگی میں خریداری کے لیے آئی 21 سالہ لڑکی بھی لاپتہ افراد میں شامل ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر شہر کی 235 سے زائد عمارتوں کا سروے کیا گیا، فائر سیفٹی آڈٹ کے دوران سنگین خامیاں سامنے آئیں۔
رپورٹ میں واضح طور پر بتایا گیا کہ سروے کے دوران سامنے آنے والی خامیوں پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں ایسے واقعات ہوسکتے ہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں عمارتوں کے مالکان اور مکینوں کو فائر سیفٹی اقدامات کو یقینی بنانے کےلیے متعلقہ اداروں کو ہدایات دی گئیں۔