|
|
فائل فوٹو
قومی اسمبلی کے اجلاس میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما سید امین الحق نے گل پلازا سانحے اور کراچی میں سہولیات کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
سید امین الحق نے کہا کہ فرقان شہید کے والد بھی لوگوں کی جان بچاتے ہوئے شہید ہوئے تھے، جیسا باپ ویسا ہی بیٹا ہے اور ہم سب انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازا کے چند قدم کے فاصلے پر کمشنر آفس، وزیراعلیٰ آفس اور دیگر ادارے موجود ہیں، کراچی ملک کی معیشت کو چلا رہا ہے، مگر اس کے باوجود شہر کو بنیادی سہولیات میسر نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آج بھی 80 افراد لاپتہ ہیں جبکہ درجنوں افراد مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہم کسی دوسرے سانحے کا انتظار کر رہے ہیں؟ گل پلازا واقعے پر جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔
سید امین الحق نے یاد دلایا کہ ماضی میں ملینیم مال سمیت کئی پلازوں میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے، جس میں شہری شہید ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کے بعد بروقت اقدامات نہ کرنا صوبائی حکومت کی ناکامی ہے، سال 2016 میں کے فور منصوبے کے لیے وفاق نے ساڑھے 12 ارب روپے جاری کیے، لیکن آج 26 ارب روپے کا منصوبہ 126 ارب روپے کا ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اس منصوبے پر 30 فیصد بھی کام نہیں کیا۔
سید امین الحق نے سوال اٹھایا کہ محلے کی گلیوں اور پانی کی فراہمی آخر کس کی ذمہ داری ہے؟ |
|