|
|
فائل فوٹو
وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سیاست سیاستدانوں کو ہی کرنی چاہیے، 1990 کی دہائی میں دو سیاسی خاندانوں کی لڑائی میں ایک دہائی گزر گئی، تاہم بعد ازاں ان دونوں سیاسی خاندانوں نے مل کر چارٹر آف ڈیموکریسی کیا۔
سینیٹ کے اجلاس میں حکومتی رہنما رانا ثنا اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہی عدالتِ عظمیٰ تھی جس نے اس وقت ایک فیصلہ کیا تھا، فیصلہ یہ تھا کہ آپ نے تنخواہ نہیں لی لیکن لے سکتے تھے، اس لیے آپ وزارتِ عظمیٰ کی کرسی سے ہٹ جائیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا چار چار ماہ کے دھرنے اسٹیبلشمنٹ نے دیے تھے؟ ایک دن دو صاحبان یہ کہہ رہے تھے کہ ہم وزیراعظم کو گھسیٹ کر ایوان سے باہر نکالیں گے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہی وزیراعظم بعد میں ان دونوں صاحبان کو فون کر کے کہہ رہے تھے کہ قوم کو ہماری ضرورت ہے، وزیراعظم نے بغیر کسی شرط کے مل بیٹھ کر بات کرنے کا کہا اور بجٹ والے دن وزیراعظم خود اپوزیشن کے بینچوں پر گئے اور ان سے ملاقات کی، آپ کے کچھ گلے شکوے آج کے ہیں اور ہمارے کل کے ہیں۔ |
|