پاکستان کی مخالفت میں اندھی بالی ووڈ انڈسٹری نے نئے اور بہترین موضوعات پر فلمیں بنانے کی صلاحیت کھو دی جس کے بارے میں بھارتی خود ہی اپنی فلموں پر تنقید کرنے لگے۔
بھارتی شاعر جاوید اختر نے پاکستان مخالف فلم ’بارڈر 2‘ کی پروڈکشن ٹیم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو ماضی کا ہے اسے وہیں چھوڑ دینا چاہیے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ جب اصل گانے غیر معمولی مقبولیت حاصل کر چکے ہوں تو اُنہیں نئے انداز میں دوبارہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔
’شرمندگی محسوس کر رہا ہوں،‘ جاوید اختر کا طالبان وزیر کے استقبال پر سخت ردعمل
معروف بھارتی نغمہ نگار و مصنف جاوید اختر نے افغان طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کو بھارت میں دیے گئے استقبالیے پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے اس رویے پر ’شرمندگی‘ محسوس کررہے ہیں۔
جاوید اختر نے کہا کہ میں اچھی فلم بنانے پر یقین رکھتا ہوں، اچھی فلم بنانا بہت ضروری ہے، مجھے فلم کے باکس آفس نمبرز سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم نے ایک اچھی فلم بنائی ہے تو بس یہی سب سے اہم چیز ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ جب نئی فلمیں بن رہی ہیں تو ان کا میوزک بھی نیا ہونا چاہیے اور اگر ہمیں اپنی نئی فلموں کے لیے پرانے دور کے مقبول گانوں پر انحصار کرنا پڑے تو ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ اب ہم ماضی جیسا معیاری برقرار رکھنے کے قابل نہیں رہے۔
یاد رہے کہ 1997 میں ریلیز ہونے والی فلم ’بارڈر‘ کے گانے جاوید اختر نے لکھے تھے تو اب اس فلم کے سیکوئل کے گانے لکھوانے کے لیے بھی ان سے رابطہ کیا گیا، تاہم انہوں نے یہ پیشکش مسترد کر دی۔