Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 1006|Reply: 0

مجوزہ آئینی ترمیم پر ججز اور وکلاء میں دلچسپ مکالمہ

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

1910K

Credits

论坛元老

Credits
194502
Post time 2025-11-7 17:33:27 | Show all posts |Read mode
  —فائل فوٹو

سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترمیم پر ججز اور وکلاء کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔

آئینی بینچ میں سول سروس رولز سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی بینچ نے کی۔

دورانِ سماعت جسٹس امین الدین خان نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا یہ کیس آج ختم ہو جائے گا؟

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میرے خیال سے آج شائد کیس ختم نہ ہو پائے۔

وکیل فیصل صدیقی نے نام لیے بغیر 27 ویں آئینی ترمیم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میری درخواست ہے کہ کیس کا آج فیصلہ کیا جائے، میں وفاقی شرعی عدالت کی بلڈنگ میں کیس پر دلائل دینا نہیں چاہتا، بلڈنگ ہی لے لینی تھی تو وفاقی شرعی عدالت کی کیوں؟ بلڈنگ لینی تھی تو ساتھ والی عمارت لے لیتے۔

وکیل فیصل صدیقی کی بات پر آئینی بینچ کے ججز مسکرا دیے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے مسکراتے ہوئے وکیل سے کہا کہ رات آپ کے حق میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے؟

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے کوئی شبہ نہیں سپریم کورٹ کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر یہی ایمان ہے تو پھر فکر کی کیا بات ہے؟

جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ہم تو آئین کے پابند ہیں۔

وکیل فیصل صدیقی نے ججز سے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کیوں بنائی گئی تھی، آپ ججز اس کمرہ عدالت میں کتنے گرینڈ لگتے ہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عمارت کے تبدیل ہونے سے اختیارات کم نہیں ہوں گے۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-1-17 13:49 GMT+5 , Processed in 0.069755 second(s), 23 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list