بھارت نے ایک بار پھر کھیل کو کھیل کی طرح کھیلنے کے بجائے اس میں سیاست کو مسلط کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
بھارتی کرکٹ کے سیکریٹری دیوجیت سائیکیا کا کہنا ہے کہ 5 اکتوبر کو کولمبو میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ویمنز ورلڈ کپ میچ میں بھارتی کھلاڑیوں کے ہاتھ ملانے کی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔
آئی ایل ٹی 20 پلیئرز آکشن میں نسیم شاہ و حسن نواز بھی منتخب
انٹرنیشنل لیگ ٹی 20 پلیئرز آکشن میں پاکستان کے نسیم شاہ اور حسن نواز کو سائن کر لیا گیا۔
بی بی سی کو انٹرویو میں سائیکیا کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاکستان کے ساتھ تعلقات ویسے ہی ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، میچ میں جو کچھ ایم سی سی کے قوانین کے تحت ہے صرف وہی کیا جائے گا، لیکن ہاتھ ملیں گے یا گلے ملا جائے گا، اس کی کوئی یقین دہانی نہیں۔
سائیکیا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کو ایشیاء کپ میں کھلے عام کھیل کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے پر تنقید کا سامنا ہے۔
ایشیاء کپ میں بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار کیا، ایشین کرکٹ کونسل کے صدر اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کیا اور جیت کے بعد سیاسی بیانات داغے۔
رانا ٹنگا نے آسٹریلوی ٹیم کیخلاف سخت فیصلہ کیوں کیا؟
سری لنکن کرکٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان ارجنا رانا ٹنگا نے اپنی پوری ٹیم کو آسٹریلوی کھلاڑیوں خاص طور پر شین وارن سے ہاتھ ملانے سے منع کردیا تھا۔
اس سے قبل بھارتی صحافی بوریا مجمدار نے بھی کھلے الفاظ میں کہا ہے کہ ویمنز ورلڈ کپ میں پاک بھارت میچ ایشیاء کپ کا تسلسل ہو گا اور صرف جینڈر کی تبدیلی فرق ہو گی باقی مناظر وہی ہوں گے۔
پاکستانی شائقین کرکٹ کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ رویہ ناصرف کھیل کی روح کے منافی ہے بلکہ آئی سی سی کے لیے بھی سوالیہ نشان ہے کہ آخر کب کھیل کو سیاست سے آزاد کیا جائے گا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان ویمنز ورلڈ کپ کا یہ ہائی وولٹیج مقابلہ 5 اکتوبر کو کولمبو میں کھیلا جائے گا اور شائقین کو خدشہ ہے کہ بھارت ایک بار پھر کھیل کے میدان کو سیاسی اکھاڑا بنانے کی کوشش کرے گا۔