Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 725|Reply: 0

ایتھوپیا میں آتش فشاں پھٹنے کا واقعہ، پاکستانی فضائی حدود سے متعلق پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی نے کیا کہا؟

[Copy link]

510K

Threads

0

Posts

1710K

Credits

论坛元老

Credits
178084
Post time 5 day(s) ago | Show all posts |Read mode
  
—فائل فوٹوز

پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے ایتھوپیا میں آتش فشاں کے پھٹنے کے واقعے پر اپنے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

پی اے اے کے ترجمان کے مطابق ایتھوپیا میں آتش فشاں کے پھٹنے کے واقعے کے بعد پاکستانی فضائی حدود مکمل طور پر محفوظ ہے۔

ترجمان پی اے اے کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں پاکستان میں پروازوں سے متعلق کوئی نوٹم جاری نہیں کیا گیا۔   
ایتھوپیا: 12 ہزار سال سےخاموش آتش فشاں پھٹ گیا

ایتھوپیا میں 12 ہزار سال سےخاموش آتش فشاں پھٹ گیا۔ عدیس ابابا سے خبر ایجنسی کے مطابق آتش فشاں سے نکلنے والا دھواں 46 ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچ گیا۔    

پی اے اے کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود کے اندر تمام پروازیں معمول کے مطابق ہیں۔

ترجمان پی اے اے کے مطابق پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی اور موسمیاتی ادارے مل کر صورتِ حال پر نظر رکھے ہیں۔

واضح رہے کہ ایتھوپیا میں 12 ہزار سال بعد آتش فشاں پھٹنے سے فضاء میں راکھ کے بادل چھا گئے۔

فرانسیسی موسمیاتی ادارے ٹولوز وولکینک ایش ایڈوائزری سینٹر کے مطابق ہیلی گُبی آتش فشاں سے اُٹھنے والا دھواں 14 کلومیٹر (45 ہزار فٹ) کی بلندی تک جا پہنچا ہے۔

آتش فشاں سے اُٹھنے والی راکھ کے بادل یمن، عمان، بھارت اور پاکستان میں دیکھے گئے ہیں۔

بھارتی محکمۂ موسمیات کے مطابق راکھ کے اثرات گجرات، دہلی، راجستھان، پنجاب اور ہریانہ تک دیکھے گئے، جبکہ فلائٹ آپریشنز کے دوران راستوں میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔

بھارتی محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ راکھ کے بادل چین کی جانب بڑھ رہے ہیں اور منگل کی شام ساڑھے 7 بجے تک بھارت سے نکل جائیں گے۔

بھارتی ایئر لائن (ایئر انڈیا) نے احتیاطی تدابیر کے طور پر ان طیاروں کی پروازیں منسوخ کر دیں جو آتش فشاں کے زیرِ اثر فضائی راستوں سے گزرے تھے۔

دوسری جانب ایتھوپیا کے شمال مشرقی خطے میں واقع ہیلی گُبی آتش فشاں کا 12 ہزار سال بعد پھٹنا ماہرین کے مطابق غیر معمولی واقعہ ہے۔   
ایتھوپیا، ہیلی گُبی آتش فشاں کا پھٹنا غیر معمولی واقعہ ہے، ماہرین

برطانوی جیولوجیکل سروے کے آرٹیکل کے مطابق آتش فشاں صرف قریبی نہیں بلکہ سینکڑوں یا ہزاروں کلومیٹر دور علاقوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔   

برطانوی ماہرِ ارضیات جولیئیٹ بگز کے مطابق یہ آتش فشاں شیلڈ وولکانو کی ایک قسم ہے جو عام طور پر لاوے کے بہاؤ کے لیے مشہور ہوتے ہیں، نہ کہ راکھ کے بڑے بادل پیدا کرنے کے لیے۔

برطانوی جیولوجیکل سروے کے آرٹیکل کے مطابق یہ آتش فشاں صرف قریبی نہیں بلکہ سینکڑوں یا ہزاروں کلو میٹر دور علاقوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں، ان سے نکلنے والی راکھ اور آتش فشاں کے مواد کے ٹکڑے فضا میں بکھر جاتے ہیں اور تیز ہواؤں کے ذریعے یہ ذرات دور دراز علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

آتش فشاں کے پھٹنے سے خارج ہونے والی راکھ اور زہریلی گیسیں جیسے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور سلفر ڈائی آکسائیڈ ناصرف فضا بلکہ انسانی صحت، زراعت اور فضائی سفر اور طیاروں کے انجنوں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2025-11-30 21:18 GMT+5 , Processed in 0.045391 second(s), 21 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list