برطانوی حکومت نے عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے غیر ملکی مجرموں کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔
اب مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے غیر ملکی شہریوں کو برطانیہ میں داخلے سے روکا یا ان کے ویزے منسوخ کر دیے جائیں گے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نئے قوانین کے تحت وہ تمام غیر ملکی افراد جنہیں کسی بھی ملک میں کم از کم 12 ماہ کی سزا سنائی گئی ہو، انہیں برطانیہ کا ویزا دینے سے انکار کر دیا جائے گا یا پہلے سے جاری ویزا منسوخ کر دیا جائے گا۔ چاہے یہ جرم ماضی میں ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔
پاکستانی شہری اب برطانیہ کے لیے eVisa استعمال کر سکیں گے، برطانوی ہائی کمشنر
برٹش ہائی کمیشن اسلام آباد نے اعلان کیا ہے کہ پاکستانی شہری اب برطانیہ کے وزٹ ویزا کے لیے نئے eVisa نظام سے فائدہ اٹھا سکیں گے، اس نئے نظام کے تحت پاسپورٹ پر ویزا اسٹیکر لگانے کے بجائے درخواست دہندگان کو ای میل کے ذریعے ڈیجیٹل تصدیق فراہم کی جائے گی۔
یہ اقدام پہلے سے موجود قوانین کے علاوہ ہے جن کے تحت 12 ماہ یا اس سے زائد قید کی سزا پانے والے غیر ملکیوں کو برطانیہ سے ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔
وزیر داخلہ شابانہ محمود نے واضح کیا کہ جرائم اور تشدد کا ماضی رکھنے والے غیر ملکی شہریوں کے لیے برطانیہ میں کوئی جگہ نہیں۔ اگر کوئی فرد برطانوی معاشرے یا عوام کے لیے خطرہ بنے گا تو اسے داخلے سے روک دیا جائے گا یا ملک بدر کر دیا جائے گا۔
نئے قوانین 26 مارچ سے نافذ العمل ہوں گے اور انہیں Sentencing Act 2026 کے مطابق امیگریشن قوانین کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا۔
حکومت نے اس سے قبل بھی غیر قانونی ہجرت اور غیر ملکی مجرموں کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا تھا۔
حکام کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں غیر قانونی تارکین وطن اور غیر ملکی مجرموں کی تقریباً 60 ہزار ملک بدریاں عمل میں لائی جا چکی ہیں، جو گزشتہ ایک دہائی میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔