سعودی اتحادی فورسز کے یمن میں ہتھیاروں اور فوجی گاڑی پر حملے کی ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے۔
سعودی اتحاد کے مطابق مکلا بندرگاہ پریو اے ای سے آیا اسلحہ علیحدگی پسند فورسز کے لیے تھا۔
سعودی اتحاد نے بندرگاہ کی ڈرون ویڈیو بھی جاری کی ہے، جس میں بندرگاہ پر گاڑیوں کی ان لوڈنگ دکھائی گئی ہے۔
یو اے ای نے یمن سے متعلق سعودی عرب کے بیان کو مایوس کن قرار دیدیا
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے یمن سے متعلق سعودی عرب کے بیان کو مایوس کن قرار دیا ہے۔
سعودی اتحاد نے کہا کہ اس نے مکلا بندرگاہ پر اتارے گئے اسلحے اور فوجی گاڑیوں کو محدود کارروائی میں نشانہ بنایا ہے۔
سعودی اتحادی فورسز کی کارروائی اس وقت کی گئی، جب 2 بحری جہاز بغیر اجازت بندرگاہ میں داخل ہوئے اور مشرقی یمن میں سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے لیے اسلحہ اور عسکری سامان اتارا گیا۔
اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ یہ دونوں جہاز 27 اور 28 دسمبر 2025 کو فجیرہ بندرگاہ سے روانہ ہو کر مکلا پہنچے، انہوں نے اتحاد کی جوائنٹ فورسز کمانڈ سے کوئی باضابطہ اجازت حاصل نہیں کی تھی۔
قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کو ریڈلائن سمجھا جائے گا، سعودی عرب
سعودی عرب نے کہا ہے کہ یمن کے امن کے لیے مذاکرات ہی واحد حل ہیں۔ ریاض سے سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یو اے ای کا یمنی جنوبی عبوری کونسل پر دباؤ ڈال کر کارروائیوں پر آمادہ کرنا افسوسناک ہے۔
کرنل ترکی المالکی نے مزید کہا کہ عملے نے اسلحہ اور فوجی گاڑیوں کی بڑی مقدار اتارنے سے قبل جہازوں کے ٹریکنگ سسٹمز کو بھی بند کر دیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کھیپ حضرموت اور المہرہ کے صوبوں میں تنازع کو ہوا دینے کے لیے تھی ،جو کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی کھلی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 (2015) کی بھی خلاف ورزی ہے۔
کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ یمن کی پریزیڈنشل لیڈرشپ کونسل کے چیئرمین کی درخواست پر سعودی اتحاد کی فضائیہ نے محدود اور انتہائی درست کارروائی کے ذریعے اسلحے اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔