Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 853|Reply: 0

بھارت : سسرالیوں نے 4 ماہ کی حاملہ بہو کو قتل کرکے لاش جلادی

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

1910K

Credits

论坛元老

Credits
193892
Post time 2026-1-5 04:45:57 | Show all posts |Read mode
  فوٹو: بھارتی میڈیا  

بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع دھول پور میں 4 ماہ کی حاملہ خاتون کو مبینہ طور پر جہیز کے مطالبات پر اس کے سسرالیوں نے قتل کر دیا۔

ملزمان نے مقتولہ کے والدین کو اطلاع دیے بغیر اس کی لاش جلا دی اور گاؤں سے فرار ہو گئے۔

مقتولہ کی شناخت 24 سالہ گڑیا کے نام سے ہوئی ہے، جس کی شادی پنکج ٹھاکر سے ہوئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گڑیا کو ہفتے کے روز اس کے سسرال، گاؤں انچھاپورا میں قتل کیا گیا، جس کے بعد سسرالیوں نے گائے کے گوبر کے اُپلے جمع کر کے چتا بنائی اور آخری رسومات ادا کر دیں۔   
بھارت: جہیز نہ لانے پر سسرالیوں نے بہو کو زندہ جلادیا

نکی کی بڑی بہن کنچن جو اسی گھر میں شادی ہو کر آئی تھی کا کہنا ہے کہ دونوں بہنوں کو جہیز کے لیے مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور سسرال والوں نے 36 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔   

واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب گڑیا کی بڑی بہن نے والدین کو اطلاع دی، جب اہلِخانہ گاؤں پہنچے تو چتا ابھی جل رہی تھی۔ انہوں نے آگ بجھا کر پولیس کو اطلاع دی۔

موقع پر سینئر پولیس افسران اور فارنزک سائنس لیبارٹری کی ٹیم پہنچی، چتا سے شواہد اکٹھے کیے گئے جبکہ ضلعی اسپتال کی میڈیکل ٹیم نے موقع پر ہی پوسٹ مارٹم کیا، ڈی این اے جانچ کے لیے نمونے بھی لیے گئے۔   
بھارت: گورنر کی بہو کا سسرالیوں پر جہیز کیلئے تشدد و قتل کی کوشش کا الزام

دیویا نے پولیس کو ایک تحریری درخواست دی جس میں انہوں نے ملزمان کے خلاف فوری کارروائی اور اپنی چار سالہ بیٹی واپس دلوانے کی اپیل کی ہے۔   

پولیس کے مطابق گھر کے اندر خون کے دھبے ملے ہیں جبکہ کلہاڑی، پھاوڑا، لاٹھیاں اور دیگر ہتھیار بھی برآمد کیے گئے۔

فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے مقتولہ کے شوہر پنکج ٹھاکر کو گرفتار کر لیا جبکہ دیگر سسرالی رشتہ دار فرار ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔

مقتولہ کے والد دیویندر سنگھ پرمار جو اترپردیش کے ضلع آگرہ کے رہائشی ہیں، نے اپنی شکایت میں بتایا کہ گڑیا کی شادی 28 مئی 2025 کو ہوئی تھی، اور شادی کے وقت 15 لاکھ روپے نقد، موٹر سائیکل، گھریلو سامان اور زیورات دیے گئے تھے۔   
سسرالیوں کے ہاتھوں جلائی جانے والی بہو نکی کا کیس نیا رخ اختیار کرگیا

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک اسپتال میمو میں کہا گیا ہے کہ نکی کو 21 اگست کی شام 6 بجے ایک پرائیویٹ اسپتال لایا گیا تھا، جہاں لکھا گیا کہ وہ    

ان کے مطابق اس کے باوجود سسرالی کار، سونے کی چین اور بھینس کا مطالبہ کر رہے تھے اور گڑیا کو ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

والد نے یہ بھی بتایا کہ گڑیا 4 ماہ کی حاملہ تھی اور گھر میں کئی کمروں میں خون بکھرا ہوا تھا۔

پولیس اس الزام کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ شوہر گڑیا پر کردار کشی کے شبہے میں تشدد کرتا تھا، ملزم شوہر پولیس حراست میں ہے اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-1-15 19:48 GMT+5 , Processed in 0.047792 second(s), 21 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list