Forgot password?
 立即注册
Search
Hot search: slot
View: 654|Reply: 0

اب پیاز کاٹتے ہوئے ’’آنسو‘‘ نہیں بہیں گے، سائنسدانوں نے سادہ حل بتادیا

[Copy link]

610K

Threads

0

Posts

1910K

Credits

论坛元老

Credits
193892
Post time 2026-1-6 00:54:34 | Show all posts |Read mode
پیاز کاٹتے ہی آنکھوں میں جلن اور آنسو آجانا تقریباً ہر باورچی خانے کی کہانی ہے، مگر کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ اس تکلیف کے پیچھے اصل وجہ کیا ہوتی ہے۔

روزمرہ کھانوں کا لازمی جزو پیاز جب چھری کے نیچے آتا ہے تو باورچیوں کے لیے یہ ایک چھوٹا سا امتحان بن جاتا ہے، تاہم اب سائنس نے اس مسئلے کی وجہ بھی واضح کر دی ہے اور اس سے بچاؤ کا طریقہ بھی بتا دیا ہے۔

امریکا کی کارنیل یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق پیاز کاٹنے سے پہلے اس کی سطح پر ہلکی سی تیل کی تہ لگا دی جائے، یا پھر اسے تیز دھار چھری کے ساتھ نرمی سے کاٹا جائے، تو آنکھوں میں جلن اور آنسوؤں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔



ماہرین کا کہنا ہے کہ جب پیاز کے خلیات دباؤ کے ساتھ یا کند چھری سے کٹتے ہیں تو ان کے اندر موجود سلفر پر مشتمل کیمیائی مادے فضا میں خارج ہوتے ہیں، جو آنکھوں تک پہنچ کر آنسو پیدا کرتے ہیں۔



تحقیق میں یہ حیران کن بات بھی سامنے آئی کہ پیاز کاٹتے وقت خارج ہونے والی یہ کیمیائی بوندیں 11 سے 89 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا میں پھیل سکتی ہیں۔ اگر چھری کند ہو یا پیاز کو بہت تیزی سے کاٹا جائے تو یہ بوندیں زیادہ مقدار میں خارج ہوتی ہیں، جس کے نتیجے میں آنکھوں کی جلن اور پانی بڑھ جاتا ہے۔

اس پورے عمل کو سمجھنے کے لیے سائنسدانوں نے تیز رفتار کیمروں اور جدید کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے باریک بینی سے مشاہدہ کیا۔

ماہرین کے مطابق پیاز کو آہستگی سے اور تیز دھار چھری کے ساتھ کاٹنے سے آنسو پیدا کرنے والے کیمیائی مرکبات کم خارج ہوتے ہیں، جس سے آنکھیں محفوظ رہتی ہیں اور باورچی خانے کا یہ عام مسئلہ کافی حد تک ختم ہو سکتا ہے۔

یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے Proceedings of the National Academy of Sciences میں شائع ہوئی ہے اور گھریلو باورچیوں کے لیے اسے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
You have to log in before you can reply Login | 立即注册

Points Rules

Archiver|手机版|小黑屋|slot machines

2026-1-15 19:48 GMT+5 , Processed in 0.046051 second(s), 21 queries .

Powered by Free Roulette 777 X3.5

Quick Reply To Top Return to the list