یورپ کے ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ 2025ء دنیا کا تیسرا گرم ترین سال ثابت ہوا۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2023ء سے 2025ء تک اوسط عالمی درجۂ حرارت پیرس معاہدے میں مقرر کردہ 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد سے تجاوز کر گیا ہے۔
یورپی مرکز برائے موسمی پیش گوئی کے مطابق 2025ء میں عالمی اوسط درجۂ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.47 ڈگری سیلسیس زیادہ رہا۔ اس طرح گزشتہ 11 سال تاریخ کے گرم ترین سال رہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025ء، 2024ء کے مقابلے میں صرف 0.13 ڈگری اور 2023ء کے مقابلے میں 0.01 ڈگری سیلسیس کم گرم تھا۔
برطانیہ کے میٹ آفس نے بھی 2025ء کو تیسرا گرم ترین سال قرار دیا ہے۔
2025ء کا دنیا کے گرم ترین سالوں میں شامل ہونے کا خدشہ
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ 11 سالوں میں سے ہر سال دنیا کے 11 گرم ترین سالوں میں شامل رہا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی درجۂ حرارت میں طویل المدتی اضافہ انسانی سرگرمیوں کے باعث فضا میں گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ 2015ء میں پیرس معاہدے کے تحت تقریباً 200 ممالک نے درجۂ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری تک محدود رکھنے کا عہد کیا تھا تاہم مسلسل بڑھتی ہوئی گرمی نے اس ہدف کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
امریکا پہلے ہی پیرس معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کر چکا ہے۔
ایسی صورتحال میں اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کا 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز کرنا اب ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔