سائنسدانوں نے کینسر کے علاج کےلیے وائبریو کالرا نامی بیکٹیریا میں ایک ہیپ اے نامی پروٹین دریافت کیا ہے۔
تحقیق کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہیپ اے نامی پروٹین کینسر کے خلیات کو خودکشی پر مجبور کردیتا ہے۔
خواتین میں ڈپریشن کا خطرہ مردو ں سے زیادہ، نئی تحقیق
جینیاتی عوامل کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خواتین میں ڈپریشن کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں دو گنا ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ پروٹین پار 1 اور پار 2 ریسیپٹرز کو نشانہ بناتی ہے، جو عام طور پر کینسر کی بڑھوتری اور سوزش میں کردار ادا کرتے ہیں، ان کی کاٹ سے خلیات کی خودکشی کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔
اس نئی دریافت نے ٹارگٹ کینسر تھراپی کی بنیاد رکھی ہے، جو کم سائیڈ ایفیکٹ کے ساتھ موثر علاج فراہم کرتی ہے، تجربات میں چھاتی، بڑی آنت اور لبلبے کے کینسر میں اس کا واضح اثر دیکھا گیا ہے۔
اے آئی کے دور میں بھی 200 سالہ پرانا آلہ اہمیت کا حامل کیوں؟
ڈاکٹروں میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے دور میں 200 سال پرانے اسٹیتھواسکوپ کی اہمیت کیوں برقرار ہے؟
تحقیق کے مطابق ان امراض میں صرف وہی خلیات مرے جن میں ہیپ اے موجود تھی، جس کا مطلب ہے پروٹین کا اثر سلیکٹو ہے، یہ دریافت مستقبل میں کم اثرات والے کینسر کے علاج کا راستہ کھول سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تحقیق تاحال لیبارٹری سطح پر ہے مگر اس کے نتائج انتہائی امید افزا ہیں، یعنی کینسر قابل علاج ہے اگر اس کی بروقت تشخیص ہوجائے۔
محققین نے زور دیا ہے کہ بعض اوقات بیماریوں کا علاج انہیں جراثیم میں چھپا ہوتا ہے جنہیں ہم نقصان دہ سمجھتے ہیں، اپنے جسم کے سگنلز پر دھیاں دیں تاکہ بروقت تشخیص ممکن ہوسکے۔