برطانوی پارلیمنٹ میں امیگریشن کے نئے منصوبے کا اعلان کردیا گیا۔
ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے اسائلم کے نظام میں اصلاحات کا اعلان پارلیمنٹ میں کیا اور کہا کہ پناہ حاصل کرنے والوں کو برطانیہ میں عارضی قیام کی اجازت ملے گی۔
برطانوی چانسلر ریچل ریوز کی جانب سے مڈل کلاس گھروں پر نیا ٹیکس متعارف کرانے کی تیاری
برطانوی حکومت مالی بحران سے نمٹنے کے لیے بڑے اقدامات کرنے جا رہی ہے، چانسلر ریچل ریوز آئندہ بجٹ میں مڈل کلاس گھریلو مالکان پر نیا ٹیکس عائد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پناہ گزین کا 5 کے بجائے 2 سال 6 ماہ بعد اسٹیٹس کا جائزہ لیا جائے گا، آبائی ملک کو محفوظ تصور کیے جانے پر پناہ گزین کو واپس بھیجا جائے گا۔
ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے یہ بھی کہا کہ پناہ کے طالب افراد متعدد کے بجائے صرف ایک اپیل کرسکیں گے، سیاسی پناہ گزین کو برطانیہ میں مستقل رہائش کےلیے 20 برس انتظار کرنا ہوگا۔
اُن کا کہنا تھا کہ محفوظ اور قانونی راستے سے برطانیہ آنے والے مستقل رہائش کےلیے جلد رجوع کرسکیں گے، یورپی کنونشن آف ہیومن رائٹس کے آرٹیکل 8 کے نفاذ سے متعلق نیا بل پیش کیا جائے گا۔
برطانیہ: تارکینِ وطن کیلئے پناہ کی پالیسی پر نظرِ ثانی
برطانیہ نے تارکینِ وطن کے لیے پناہ کی پالیسی پر نظرِ ثانی اور پناہ گزینوں کی حیثیت عارضی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
شبانہ محمود نے کہا کہ نئے قواعدکے بعد ای سی ایچ آر کے تحت خاندانی زندگی کا حق صرف انھیں ملے گا جو قریبی عزیزوں کے ساتھ رہ رہے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پناہ گزینوں کےلیے ہاؤسنگ اور ہفتہ وار الاؤنس کی بھی اب ضمانت نہیں ہوگی، گزشتہ 4 برسوں میں 4 لاکھ افراد نے برطانیہ میں پناہ طلب کی۔