لاہور کی نجی یورنیورسٹی میں خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبہ کا جنرل اسپتال میں علاج جاری ہے، اسپیشل میڈیکل بورڈ کا کہنا ہے کہ طالبہ فاطمہ کی صحت میں بہتری آرہی ہے۔
پروفیسر جودت سلیم نے بریفنگ میں بتایا کہ طالبہ دو روز سے بغیر وینٹی لیٹر اور آکسیجن سپورٹ کے سانس لے رہی ہے، طالبہ کی حالت اب پہلے سے کافی بہتر اور مستحکم ہے۔
نجی یونیورسٹی میں طالب علم کی خودکشی، انکوائری رپورٹ سامنے آگئی
انکوائری رپورٹ کے مطابق ایک مضمون صبح کے وقت ہونے سے طالبعلم کی حاضری کم رہی، خودکشی کرنے والا طالب علم شدید ذہنی تناؤ اور سائیکلوجیکل مسائل کا شکار تھا۔
پروفیسر جودت سلیم نے کہا کہ طالبہ فاطمہ کی اعصابی حالت تسلی بخش ہے، انکا جی سی ایس لیول 15/15 ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیر کی صبح طالبہ کا ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کا آپریشن متوقع ہے، آرتھوپیڈک ٹیم ٹانگ کے زخموں کی باقاعدگی سے ڈریسنگ کر رہی ہے۔
پروفیسر جودت کا کہنا تھا کہ نفسیاتی علاج کے لیے ٹیم نے کونسلنگ اور ادویات کا آغاز کردیا ہے، طالبہ کی بہتر جسمانی حرکت کے لیے فزیوتھراپی بھی شروع کر دی گئی ہے۔