سینیٹ میں پاکستان تحریک انصاف نے بانی سے ملاقات کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں قید تنہائی میں رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔
پریزائیڈنگ افسر شیری رحمان کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں سینیٹر علی ظفر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بانی پی ٹی آئی کا وکیل ہوں، میری ملاقات کیوں نہیں ہونے دی جا رہی؟
انہوں نے کہا کہ عدالت کا اس سے کوئی تعلق نہیں یہ جیل اتھارٹی کا فیصلہ ہے جو حکومت کے ماتحت ہے، یہ سیاسی انتقام ہے۔
سینیٹر فلک ناز چترالی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔
عمران سے ملاقات نہ کرانے پر تحریک انصاف کا سینیٹ میں احتجاج
اسلام آباد سینٹ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے...
اجلاس سے خطاب میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کا اختیار ہوتا ہے کہ رویے کو دیکھتے ہوئے ملاقات کا طے کرے۔
انہوں نے کہا کہ اڈیالا جیل پنجاب حکومت کے ماتحت ہے، وفاق کا اختیار نہیں کہ وہ ان کو ہدایت دے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی قید تنہائی نہیں، انہیں مشقتی ملا ہوا ہے، بانی کو ان کی مرضی کا کھانا دیا جاتا ہے اور تمام سہولیات ملی ہیں، انکی صحت بھی ٹھیک ہے۔
سینیٹ اجلاس میں بچوں کے سوشل میڈیا ایپس کا حد سے زیادہ اور بغیر نگرانی کے استعمال پر توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرایا گیا۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب میں کہا کہ یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے، اس پر قومی سطح پر بحث ہونی چاہیے۔
پریزائیڈنگ افسر شیری رحمان نے کہا کہ یہ معاملہ آئی ٹی کمیٹی کو نہیں بھیجا جا سکتا، اس میں بہت ساری وزارتیں شامل ہیں، چیئرمین سینیٹ کی ہدایت پر اس معاملے پر اسپیشل کمیٹی تشکیل دینی چاہیے۔
شیری رحمان نے کہا کہ یہ بہت حساس نوعیت کا معاملہ ہے، اس پر وزارت قانون کو بھی رائے دینا ہوگی۔
سینیٹ میں وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی نے انتقال ریلویز ترمیمی بل 2025 پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کیا گیا۔
قبل ازیں سینیٹ اجلاس میں عابد شیر علی نے بطور رکن سینیٹ حلف اٹھا لیا، سینیٹ کا اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کردیا گیا۔