|
|
تصویر سوشل میڈیا۔
جاپان کے جیرو ٹاؤن کے کانایامچو ضلع میں ایک سب سے خوفناک سیڑھی واقع ہے جو دراصل کنکریٹ سے بنائی گئی ہے۔ یہ ایک غیر معمولی طور پر سیدھی کھڑی ہوئی اور تنگ سیڑھی ہے جسے جاپان کی سب سے خوفناک سیڑھی کہا جاتا ہے۔
وسطی جاپان کے شہر کانایامچو ضلع میں دریائے میز کے کنارے تقریباً 10 میٹر بلند پشتے میں تراشی گئی یہ سیڑھیاں، جنہیں جاپان کی سب سے خوفناک سیڑھی کہا جاتا ہے۔ یہ ان دنوں سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔
دراصل ایک فوٹوگرافر کی جانب سے ان سیڑھیوں کی تصاویر شیئر کیے جانے کے بعد یہ مشہور ہوئیں۔ بعض زاویوں سے یہ سیڑھیاں تقریباً بالکل عمودی دکھائی دیتی ہیں، جن کے پائیدان اتنے تنگ ہیں کہ ان پر ٹھیک سے پاؤں رکھنا بھی مشکل ہے اور سہارا دینے کے لیے صرف ایک زنگ آلود ہینڈریل موجود ہے۔ تصویر سوشل میڈیا۔
حالیہ رپورٹ کے مطابق یہ سیڑھیاں 60ء کی دہائی کے اوائل کی ہیں، جب مقامی حکام نے ضلع کو سیلاب سے بچانے کے لیے ایک کنکریٹ کا پشتہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد ازاں یہ سیڑھیاں اس وقت شامل کی گئیں جب مقامی لوگوں نے شکایت کی کہ انہیں میز دریا کے کنارے مچھلی پکڑنے کے لیے پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
سیڑھی کی انتہائی کھڑی ساخت کی بنیادی وجہ اس کا ٹرِیڈ اور رائزر کا تناسب 1 ٹو 1 ہے، جبکہ عام طور پر یہ تناسب 2 ٹو1 ہوتا ہے۔ اگرچہ حکام کی جانب سے اس تناسب کی کوئی سرکاری وضاحت نہیں دی گئی، لیکن کہا جاتا ہے کہ اس ڈیزائن کا مقصد تعمیراتی اخراجات کو کم سے کم رکھنا تھا۔
جاپان کی اس سب سے خوفناک سیڑھی کی تصاویر اور ویڈیوز گزشتہ چند ہفتوں سے آن لائن وائرل ہو رہی ہیں، تاہم مقامی سیاحتی تنظیم نے اس کے خطرناک ہونے کے باعث اسے سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دینے سے گریز کیا ہے۔ |
|