امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے ایک سال مکمل ہونے پر وائٹ ہاؤس میں طویل نیوز کانفرنس کی جس میں اُنہوں نے امیگریشن، معیشت، نیٹو، اقوامِ متحدہ اور گرین لینڈ کے مستقبل پر کھل کر بات کی۔
ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ روز کی گئی نیوز کانفرنس کا مرکزِ توجہ گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی خواہش اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی رہی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکا میں ’ریوَرس مائیگریشن‘ اور ’اعلیٰ معاشی ترقی‘ دیکھی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر ملاقاتیں طے ہیں اور معاملات ’اچھی طرح‘ طے پا جائیں گے۔
بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا ارادہ نہیں، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے سابق صدر مادورو سے جیل میں ملاقات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
نیوز کانفرنس کے دوران جب اِن سے پوچھا گیا کہ وہ اس جزیرے کے حصول کے لیے کہاں تک جا سکتے ہیں تو اِن کا مختصر جواب تھا ’آپ کو پتہ چل جائے گا۔‘
ٹرمپ نے نیٹو کے مستقبل پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ امریکا اتحادیوں کے دفاع کے لیے تیار ہے مگر انہیں شک ہے کہ آیا یورپ اور کینیڈا امریکا کے لیے بھی ایسا کریں گے یا نہیں۔
اُنہوں نے نیٹو کے دفاعی اخراجات بڑھانے میں اپنے کردار پر فخر کا اظہار کیا۔
اقوامِ متحدہ سے متعلق بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ اپنی صلاحیتوں پر پورا نہیں اترا۔
انہوں نے عندیہ دیتےہوئے مزید کہا کہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اِن کا تیار کیا گیا ’بورڈ آف پیس‘ مستقبل میں اقوامِ متحدہ کا متبادل بن سکتا ہے۔