|
|
--کولاج بشکریہ بین االاقوامی میڈیا
انڈونیشیا کے جزیرے مونا میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے غاروں کی دیواروں پر بنے ہاتھوں کے قدیم ترین نشانات دریافت کیے ہیں جن کی عمر تقریباً 67 ہزار 800 سال بتائی جا رہی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جزیرے مونا میں یہ تحقیق انڈونیشیا اور آسٹریلیا کے سائنس دانوں نے مشترکہ طور پر کی ہے جسے گزشتہ روز سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع کیا گیا ہے۔
آثارِ قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کی اب تک کی دریافت ہونے والی سب سے قدیم تصویریں ہو سکتی ہیں۔ یہ نشانات چونے کے پتھر کی غاروں میں ہاتھ رکھ کر ان پر رنگ پھونکنے سے بنائے گئے ہیں جس سے ہاتھوں کا خاکہ ابھرتا ہے۔
انڈونیشیا کی نیشنل ریسرچ ایجنسی (BRIN) سے تعلق رکھنے والے ماہرِ آثارِ قدیمہ ادھی آگس اوکتاویانا 2015ء سے اس علاقے میں ایسے نشانات کی تلاش کر رہے تھے۔ یہ ہاتھوں کے نشانات غار میں موجود نسبتاً نئی تصویروں کے نیچے ملے ہیں جن میں گھوڑے پر سوار انسان اور ایک مرغی کی تصویر بھی شامل ہے۔
ماہرین نے بتایا ہے کہ ان ہاتھوں کی انگلیوں کے سِرے جان بوجھ کر نوکیلے بنائے گئے تھے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید انہیں کسی جانور کے پنجے کی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہو۔
ماہرین کے مطابق اس کے پیچھے کوئی گہرا ثقافتی یا علامتی مطلب ہو سکتا ہے تاہم اس کی حتمی وضاحت ممکن نہیں۔ تصویروں کی عمر معلوم کرنے کے لیے سائنس دانوں نے غاروں کی دیواروں پر بننے والی معدنی تہوں میں موجود یورینیم اور تھیریم عناصر کا جدید لیزر ٹیکنالوجی سے تجزیہ کیا جس سے تصویروں کی کم از کم عمر کا تعین کیا گیا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ مونا جزیرے کی یہ غاریں ہزاروں سال تک مختلف ادوار میں استعمال ہوتی رہی ہیں اور بعض قدیم تصویروں کے اوپر بعد میں نئی تصویریں بھی بنائی گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت انسانی ہجرت کے قدیم نظریات کو مضبوط کرتی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ قدیم انسان ناصرف ماہرِ ملاح تھے بلکہ فنکار بھی تھے۔
واضح رہے کہ انڈونیشیا اور آسٹریلیا کا خطہ دنیا کے قدیم ترین انسانی آثار کے لیے مشہور ہے جبکہ آسٹریلیا کے مقامی باشندوں کی تہذیب کم از کم 60 ہزار سال پرانی سمجھی جاتی ہے۔ |
|