وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ آئین میں صوبے بنانے اور وفاق کی کسی شہر کو لینے کی گنجائش موجود ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہم آئین میں رہ کر بات کر رہے ہیں، ایم کیو ایم نے 18ویں ترمیم کی حمایت کی تھی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 18ویں ترمیم کی حمایت کا مقصد اختیارات صوبوں سے بلدیاتی نمائندوں تک منتقلی تھا، پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ کو اختیار دینے کو تیار نہیں۔
ایک صوبہ ایسا کرتا ہے جیسے وہ پاکستان کے آئین سے بالاتر ہے، خالد مقبول صدیقی
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل مکالمہ ہوتا ہے، ہم امن سے رہنے کی تمنا رکھنے والے لوگ ہیں، ایک اہم موڑ پر ہم داخل ہو گئے ہیں، ہم نے بھی اب فیصلہ کرنا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل چیئرمین ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل (4)239 نئے صوبے بنانے کی اجازت دیتا ہے، پیپلز پارٹی اپنے ہی بانی کے آئین سے بےوفائی کر رہی ہے۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 140 اے آئین کا حصہ ہے جو پورے پاکستان کیلئے ہے، آئین ہی ہمیں پر امن جدوجہد اور احتجاج کی اجازت دیتا ہے، یہ قرارداد پاکستان کی تقسیم کی سازش ہے، انصاف ہی امن کی ضمانت ہے، امن انصاف کی ضمانت نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو 7 ڈسٹرکٹ میں تقسیم کس نے کیا، پیپلز پارٹی پہلے ہی کراچی کو ٹکڑے ٹکڑے کر چکی ہے، آئین کا آرٹیکل 48 کی شق 6 کسی بھی علاقے میں ریفرنڈم کا بھی اختیار دیتی ہے، یہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کر رہی، ہم ایک بار پھر توہین عدالت کی پٹیشن میں جائیں گے۔