متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے نئے صوبے کے مطالبے اور بلدیاتی اداروں کی مضبوطی کے لیے عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر ایوان اور عدالتیں ہمیں انصاف فراہم نہیں کریں گی تو سڑکوں پر جائیں گے، عوامی رابطہ مہم چلائیں گے اور عوام سے بات کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں 17 سال کا قبضہ اب ختم ہونا چاہیے، پاکستان میں جاگیردارانہ جمہوریت ہے، صوبہ انتظامی یونٹ ہوتا ہے، آبادی کے ساتھ بڑھنا چاہیے، یہ ایم کیو ایم کا مطالبہ نہیں آئین کا تقاضا ہے۔
ایم کیو ایم نے نئے صوبے سے متعلق ترمیم کیلئے عوام میں جانے کا اعلان کردیا
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں جاگیردارانہ جمہوریت ہے، آئین کا آرٹیکل 239 نئے ضلع اور صوبے بنانے کا کہتا ہے
دوسری جانب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد کے لیے ایم کیو ایم پاکستان نے لڑ کر پیکج لیا، صحیح معنوں میں پیکج تو تب آئے گا جب ایم کیو ایم پاکستان صوبے کی حکمرانی کرے گی۔